خطبات محمود (جلد 36) — Page 168
$1955 168 خطبات محمود جلد نمبر 36 کو جب آپ نے ناظر اعلیٰ بنا دیا تو وہ گھر میں بڑا افسوس کیا کرتے تھے کہ ہم نے تو اپنے آپ کو تبلیغ کے لیے وقف کیا تھا اور انہوں نے ہمیں کرسیوں پر لا کر بٹھا دیا ہے۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں جو مجھے لکھتے رہتے ہیں کہ واقف زندگی کی قدر ہونی چاہیے۔باہر سے آنے والوں میں سے کوئی وکیل اعلیٰ ہو جاتا ہے اور کوئی ناظر اعلیٰ ہو جاتا ہے اور ہم مبلغ کے مبلغ ہی رہتے ہیں۔حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے خدا کہے کہ بندوں میں سے تو کوئی ترقی کر کے ہٹلر بن گیا اور کوئی نپولین بن گیا اور میں خدا کا خدا ہی رہا۔بھلا مبلغ سے بڑا کون سا مقام ہو سکتا ہے جو تم حاصل کرنا چاہتے ہو۔جو شخص سچا حقیقی مبلغ ہوتا ہے وہ دنیا میں خدا تعالی کا نمائندہ ہوتا ہے۔جیسے ایمبیسڈر اپنی اپنی حکومتوں کے نمائندے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حکومت کے وزراء ہز ایکسی لینسی نہیں کہلا سکتے۔لیکن ایمبیسڈر ہز ایکسی لینسی کہلاتے ہیں۔کیونکہ وہ اپنی اپنی حکومتوں کے نمائندہ ہوتے ہیں۔اسی سفر میں ایک دن چودھری ظفر اللہ خان صاحب کہنے لگے کہ میں جب تک وزارت خارجہ میں تھا ہز ایکسی لینسی نہیں کہلا سکتا تھا۔لیکن اب انٹر نیشنل کورٹ کا حج ہونے کی وجہ سے میں بائی رائٹ(By Right) اپنے آپ کو ہز ایکسی لینسی لکھ سکتا ہوں۔جس طرح دنیا میں بعض لوگ حکومتوں کے نمائندہ ہونے کی وجہ سے خاص عزت کے مستحق سمجھے جاتے ہیں اسی طرح مبلغ ہونا بھی ایک بہت بڑی عزت کا مقام ہے۔مبلغ سے کسی اور کو اونچا سمجھنا ایسی ہی بیوقوفی کی بات ہے جیسے کسی جج نے ایک شخص کو پھانسی کی سزا دی تو وہ چیخ مار کر کہنے لگا کہ اس سے تو بہتر تھا کہ مجھے موت کی سزا دے دیتے۔جیسے اُس کا قول احمقانہ تھا اسی طرح یہ بھی بیوقوفی کی بات ہے کہ ایک مبلغ سے کسی اور کا مقام اونچا سمجھا جائے۔غرض خدا نے تمہارے لیے بڑی بڑی عزتیں رکھی ہیں تم خدا پر توکل کرو اور اُس کے دین کی اشاعت کے لیے اپنے آپ کو وقف کرو۔وہ دینے پر آتا ہے تو وہ کچھ دے دیتا ہے کہ انسان اُسے دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ہم نے ساری عمر میں دنیوی قابلیتوں کے بغیر وہ کچھ علم حاصل کیا ہے جو بڑی سے بڑی ڈگریاں رکھنے والوں کو بھی نہیں ملا۔اسی طرح مالی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے ہماری ایسے ایسے رستوں سے مدد کی جو ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھے۔پس خدا تعالیٰ پر تو کل کرتے ہوئے تم اس کی طرف قدم اٹھاؤ۔اگر تم اُس پر تو کل رکھتے ہوئے اُس کی طرف اپنا قدم بڑھاؤ گے تو یقیناً