خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 158

خطبات محمود جلد نمبر 36 158 $1955 اسی طرح میں سمجھتا ہوں ماسٹر محمد حسن صاحب آسان نے بھی ایسا نمونہ دکھایا ہے جو قابل تعریف ہے۔وہ ایک معمولی مدرس تھے اور غریب آدمی تھے۔انہوں نے فاقے کر کر کے اپنی اولا د کو پڑھایا اور اسے گریجوایٹ کرایا۔اور پھر سات لڑکوں میں سے چار کو سلسلہ کے سپرد کر دیا۔اب وہ چاروں خدمت دین کر رہے ہیں اور قریباً سارے ہی ایسے اخلاص سے خدمت کر رہے ہیں جو وقف کا حق ہوتا ہے۔اگر یہ بچے وقف نہ ہوتے تو ساتوں مل کر شاید دس ہیں سال تک اپنے باپ کا نام روشن رکھتے اور کہتے کہ ہمارے ابا جان بڑے اچھے آدمی تھے۔مگر جب میرا یہ خطبہ پچھے گا تو لاکھوں احمدی محمد حسن صاحب آسان کا نام لے کر ان کی تعریف کریں گے اور کہیں گے کہ دیکھو! یہ کیسا با ہمت احمدی تھا کہ اس نے غریب ہوتے ہوئے اپنے سات بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور پھر ان میں سے چار کو سلسلہ کے سپر د کر دیا۔اور پھر وہ بچے بھی ایسے نیک ثابت ہوئے کہ انہوں نے خوشی سے اپنے باپ کی قربانی کو قبول کیا اور اپنی طرف سے بھی ان کے فیصلہ پر صا دکر دیا۔میں نے پچھلے جمعہ میں جماعت کے دوستوں کو تحریک کی تھی کہ وہ اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لیے وقف کریں۔اور میں نے بتایا تھا کہ اسلام کے غلبہ کی یہی صورت ہے کہ ہم میں نسلاً بعد نسل ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں جو اسلام کی اشاعت کے لیے اپنے آپ کو وقف کریں۔میں نے یہ تحریک کی اور اس پر ایک ہفتہ گزر گیا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک جماعت نے اس تحریک کی طرف پوری توجہ نہیں کی۔ایک زمانہ وہ ہوا کرتا تھا کہ نارمل حالت میں جب میں تقریر کرتا تھا تو میں سمجھتا تھا کہ میں سامعین کے دل ہلا سکتا ہوں۔اور اگر ابنارمل (Abnormal) اور غیر معمولی حالت پیدا ہو جاتی تھی اور خدا تعالیٰ کا نور مجھ پر نازل ہوتا اور اُس کا تصرف میری زبان پر ہوتا تو میں سمجھتا تھا کہ اگر ساٹھ ہزار آدمی بھی میرے سامنے ہوں اور میں انہیں پہاڑ سے چھلانگ لگانے کے لیے کہوں تو وہ پہاڑ سے چھلانگ لگا دے گا۔اور اگر میں انہیں سمندر میں گودنے کے لیے کہوں تو وہ سمندر میں گو دجائے گا۔لیکن اس بیماری کے بعد مجھے یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ میری وہ قوت بیا نیہ اب مجھ میں موجود ہے یا نہیں۔بہر حال میرے اس خطبہ کے بعد ایک احمدی نے مجھے خط لکھا کہ میرے دل میں وقف کی