خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 73

1955ء 73 خطبات محمود جلد نمبر 36 ایک دوسرے کو سنا رہے ہیں ۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اُس نے ایک رقعہ لا کر مجھے دیا اور کہا کہ یہ رقعہ سر اقبال کا ہے۔ اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ چونکہ آپ کے خاندان کی زبان فارسی ہوا کرتی تھی اس لئے اگر آپ کا فارسی میں کوئی کلام ہو تو بھجوائیں ۔ اس سے مجھے شرمندگی ہوئی کہ لئے ہوتو مجھے ہمارے بچپن میں تو ہمارے گھر کی مستورات بھی فارسی بولا کرتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت خلیفتہ امسیح الاول فارسی کے سخت مخالف تھے گو میں نے مثنوی مولانا روم اُن سے سبقاً پڑھی ہے۔ لیکن وہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے فارسی سے اس لئے سخت بغض ہے کہ اس نے عربی زبان کی جگہ لے لی ہے اور اُسے تباہ کر دیا ہے۔ چونکہ وہ ہمارے استاد تھے اور استاد کا اثر طبعا ہوتا ہے اس لیے فارسی کی طرف مجھے بھی چنداں رغبت نہیں ہوئی ۔ ورنہ فارسی خود ایسی زبان ہے کہ جسے عربی اور اردو آتی ہو وہ ایک دو ماہ کے اندر اندر ہی آسانی سے اسے سیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح حضرت صاحب بھی فرمایا کرتے تھے کہ فارسی زبان ہمارے گھر میں بولی جاتی تھی اور گھر کے افراد فارسی میں خط و کتابت کیا کرتے تھے ۔ ایک دور فعے حضرت صاحب کے بھی ایسے ملے ہیں جو فارسی میں ہیں ۔ اسی خیال سے میں شرم محسوس کرتا ہوں کہ سرا قبال نے کہا ہے کہ آپ کے گھر میں فارسی بولا کرتے تھے اس لئے میں آپ کو لکھ رہا ہوں کہ آپ فارسی میں کوئی کلام بھیجیں ۔ یہ مجھے یاد نہیں کہ کلام حضرت صاحب کا ہو یا میرا۔ چنانچہ میں نے معذرت کی کر کے بھجوادی اور اس کے بعد میں نیچے اُترا۔ میں نے دیکھا کہ شیخ یعقوب علی صاحب ایک پہلو میں ہیں اور دوسرے میں سر اقبال مرحوم بیٹھے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کی وہی شکل تھی جو 1930ء ، 1931ء میں میں 1ء میں میں نے دیکھی تھی یعنی مضبوط چہرہ تھا اور رنگ میں صفائی تھی۔ میں نے اُن کو دیکھا تو ایک اور شخص جو احمدی ہے میرے سامنے آیا ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ کیا باتیں کر رہے تھے؟ اُس نے بتایا کہ سر اقبال اپنے فارسی کے اشعار شیخ یعقوب علی صاحب کو سنا رہے تھے اور شیخ یعقوب علی صاحب پرانے شاعروں کا کلام اور قرآن مجید انہیں سنا رہے ہیں ۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کو شیخ صاحب کا قرآن شریف پڑھنا کیسا پسند آیا۔ تو اُس نے کہا کہ شیخ صاحب کی آواز میں جو لوچ 1 ہے اس کی وجہ سے انہوں نے اُن کے اشعار کو تو پسند کیا ہے۔ لیکن اُن کے قرآن شریف پڑھنے سے وہ اتنے متاثر نہیں ہوئے ۔