خطبات محمود (جلد 36) — Page 48
$1955 48 خطبات محمود جلد نمبر 36 انہوں نے مجھے سے رائفل چلوائی۔مجھے اس کے متعلق قانون کی پوری واقفیت نہیں۔لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ لوگ بالعموم اپنا ہتھیا راپنے دوستوں یا رشتہ داروں سے اپنے سامنے چلوا لیتے ہیں۔اگر ایسا کرنا خلاف قانون ہے تو چاہے خود پولیس کے افسر بھی ایسا کرتے ہوں اگر تم ایسا کرو گے تو تم پر الزام لگایا جائے گا۔دنیا میں عام قاعدہ ہے کہ اگر باپ کے پاس رائفل کا لائسنس ہے تو وہ رائفل اُس کا بیٹا بھی چلا لیتا ہے۔اور اگر اس میں ہمت اور شوق ہو تو اُس کی بیوی بھی چلا لیتی ہے اور میں سمجھتا ہوں گورنروں اور وزیروں سے لیکر نیچے تک سب کا یہی حال ہے۔اُن کی بیویاں بیٹے اور بیٹیاں اگر شکار میں ساتھ ہوں تو وہ بھی شکار میں حصہ لے لیتے ہیں۔یہ عام دستور ہے لیکن کوئی قوم بدنام ہو جائے تو لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ عام دستور کیا ہے۔بلکہ اُس کمزور قوم کے خلاف ایسے امور میں بھی قدم اٹھایا جاتا ہے جن پر بڑی قوموں کو کچھ نہیں کہا جاتا۔پس تم ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی پر ہیز کرو۔مثلاً سامنے شکار ہے۔ایک لائسنس والا اپنا ہتھیار دیتا ہے اور کہتا ہے وہ شکار ہے اُس پر فائر کرو۔تو عام دستور کے ماتحت چاہے سب لوگ اس طرح کر لیتے ہوں لیکن ان دنوں تم ان باتوں سے بھی پرہیز کرو اور استغفار اور دعا میں یہ ایام گزارو۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ تمہارا دشمن تمہارے خلاف جھوٹ بولنے سے پر ہیز نہیں کرتا۔وہ سو فیصدی جھوٹ بولنے کے لیے تیار ہے اور بعض دفعہ تو سو فیصدی کہنے میں بھی ہمیں شک ہوتا ہے اور جی چاہتا ہے کہ اگر دوسو فیصدی کہنا درست ہو تو ہم یہ کہیں کہ وہ دوسو فیصدی جھوٹ بولنے سے بھی نہیں چوکتے۔لیکن تمہارے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں کہ تم اسے جھوٹ بولنے سے روک سکو یا معلوم کر سکو کہ وہ کس قسم کا جھوٹ بولتا ہے اور کس کے پاس جھوٹ بولتا ہے۔مثلاً وہ ایک افسر کے پاس چلا جاتا ہے۔پھر اس افسر سے کچہری میں نہیں ملتا۔اُس کی کوٹھی پر جا کر ملتا ہے۔اور اس سے کوئی جھوٹی بات بیان کرتا ہے تو تمہیں اس کا پتا نہیں لگ سکتا۔ہاں اگر وہ خود بھید ظاہر کر دے تو اور بات ہے۔لیکن یہ محض اتفاقی طور پر ہوتا ہے۔عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔جس طرح میں نے بیان کیا ہے کہ سی۔آئی۔ڈی کا ایک آدمی ایک سیکرٹری کے پاس گیا اور اُس سے چالاکی سے کچھ باتیں اپنے خیال میں دریافت کرنے کی کوشش کی۔اُس کا خیال تھا کہ میں ان لوگوں کے منہ سے بعض باتیں نکلواؤں۔لیکن چونکہ رپورٹ سراسر