خطبات محمود (جلد 36) — Page 40
$1955 40 خطبات محمود جلد نمبر 36 رکھا اس نے گویا میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا 3 اور علم النفس کو بھی لیا ہے کہ فرمایا ہم جو حکم دیتے ہیں وہ تمہارے فائدے کے لئے دیتے ہیں۔ہمیں اپنا کوئی فائدہ مد نظر نہیں ہوتا 4۔اس طرح بعض جگہوں پر آمرانہ طرز عمل بھی اختیار کیا گیا ہے۔پس ہر زمانہ میں الگ الگ زبان ہوتی ہے۔آمریت اور جمہوریت دونوں باتیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔لیکن ایک وقت میں ایک قوم کے سامنے ایک ہی بات پر زور دیا جا سکتا ہے۔دونوں پر نہیں۔پس تم اس رنگ میں لٹریچر تیار کرو۔پھر جب لٹریچر تیار ہو جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس لٹریچر کو پھیلائے۔اگر جماعت لٹریچر کو پھیلائے گی نہیں تو تمام کوششیں بیکار رہ جائیں گی۔اس لئے میں نے کہا ہے کہ جماعت ہر جگہ پر لائبریری قائم کرے۔چھوٹی چھوٹی جماعتیں بھی لائبریریاں قائم کر سکتی ہیں۔بلکہ ان پڑھ لوگ بھی کتابوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔جالندھر کے ایک احمدی تھے۔وہ اسکا چلایا کرتے تھے۔( اُن دنوں جالندھر کے ایک حصہ میں ریل جاری نہیں ہوئی تھی۔اس لئے لوگ اتوں پر سفر کیا کرتے تھے )۔اُن کے ذریعہ درجنوں آدمی احمدی ہوئے تھے۔وہ خود تو پڑھے ہوئے نہیں تھے لیکن وہ الحکم اور سلسلہ کی کتابیں منگوایا کرتے تھے۔اُن کا طریق تھا کہ اپنے پاس کوئی کتاب رکھ لیتے۔اور جو نہی گھوڑے کی باگیں پکڑتے کتاب نکال کر کسی سواری کو دے دیتے اور کہتے کسی نے یہ کتاب مجھے بھیجی ہے۔میں ان پڑھ ہوں آپ سنا دیں تو مجھے معلوم ہو جائے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔اب خالی بیٹھے ہوئے کو بھی کوئی شغل چاہیے وہ بڑی خوشی سے سنانے لگ جا تا۔وہ سمجھ رہا ہوتا تھا کہ میں اگنے والے کو اخبار یا کتاب سنا رہا ہوں۔اور اگا والا سمجھتا تھا کہ میں اسے کتاب پڑھوا رہا ہوں۔کئی لوگ دلچسپی لینے لگ جاتے اور پوچھتے یہ کتاب کہاں سے ملتی ہے؟ یا یہ اخبار کہاں سے نکلتا ہے؟ میں بھی منگوانا چاہتا ہوں۔تو وہ دوست کہتے میرے پاس اور بھی کئی کتابیں اور رسالے ہیں آپ مجھ سے ہی لے لیں۔اس طرح اُن کے ذریعہ درجنوں لوگ احمدی ہوئے۔پس جہاں کوئی پڑھا ہوا آدمی نہیں وہاں بھی لائبریری قائم کی جاسکتی ہے۔اپنے پاس کتاب رکھو اور اگر کوئی رشتہ دار یا کوئی اور تعلیم یافتہ آدمی آجائے تو اُسے کہو اس کتاب کا کچھ حصہ