خطبات محمود (جلد 36) — Page 36
1955ء 36 خطبات محمود جلد نمبر 36 اس کی وجہ یہی ہے کہ جو سوالات ہمارے سامنے پیش آ رہے ہیں وہ پہلوں کے سامنے پیش نہیں آئے ۔ انہوں نے جو کام کیا ہے اپنے زمانہ کے حالات کے لحاظ سے کیا۔ اگر اُن کے سامنے موجودہ سوالات پیدا ہوتے تو وہ ان کے مطابق قرآنی تفاسیر لکھتے ۔ لیکن چونکہ ان کے سامنے اس قسم کے حالات پیش نہیں آئے انہوں نے اس کے مطابق تفسیر میں نہیں لکھیں ۔ اس لئے ان کی تفاسیر سے اس زمانہ میں فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ اب اگر پہلی کتابوں کو مد نظر رکھ کر مضامین لکھے جائیں تو وہ مفید نہیں ہو سکتے ۔ اسی لئے میں جماعت کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں ۔ ہمارے علماء اس وقت تک پرانی لکیر کے فقیر ہیں۔ وہ زمانہ کے موجودہ حالات کو مد نظر نہیں رکھتے ۔ پہلے طریق سے اگر لوگوں کو سمجھایا جائے تو وہ تمہاری بات نہیں سمجھیں گے۔ لیکن نئے طریق سے سمجھاؤ گے تو وہ نہ صرف تمہاری بات سمجھیں گے بلکہ اسے تسلیم کرنے کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے۔ میں ایک دفعہ کراچی گیا تو مجھے ایک دوست ملے ۔ انہوں نے بتایا کہ میں احمدیت کا مداح ہوں ۔ لیکن اس بات سے مجھے تکلیف ہوتی ہے کہ آپ کی جماعت کے لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں ۔ میں نے کہا ہم تو کا فرنہیں کہتے ۔ میں تو انہیں روکتا ہوں کہ وہ کسی کو کافر نہ کہیں ۔ چنانچہ پاس والے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے میں نے کہا کہ کیا آپ لوگ انہیں کافر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں ۔ اس پر اُس دوست نے کہا یہ لوگ مجھے کا فرنہیں کہتے لیکن دوسرے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس پر میں نے جماعت کے دوستوں سے دریافت کیا کہ کیا آپ مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں؟ وہ کہنے لگے ہم تو مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے ۔ پھر میں نے کہا کہ ہم کسی کو کا فرنہیں کہتے ۔ لیکن ان یہ اگر کوئی خلاف اسلام عقا ئدر سلام عقائد رکھتا ہوتو ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ بعض کفریہ عقائد رکھتا ہے ۔ مثلاً مسلم تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کی کئی آیتیں منسوخ ہیں۔ اب اگر یہ عقیدہ درست ہو تو سارے قرآن کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ ہم جس صفحہ کو بھی کھولیں گے ہم کہیں گے کہ معلوم نہیں یہ خدا کا حکم ہے یا منسوخ ہو چکا ہے۔ اب جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں ہم ان کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ان میں یہ کفریہ عقیدہ آگیا ہے۔ میں نے یہ مثال دی تو اس نے کہا اس قسم کے لوگوں کا ذکر چھوڑیئے وہ تو پکے کافر ہیں۔ میں نے کہا آپ تو انہیں پکا کا فر سمجھتے ہیں لیکن ہم انہیں پکا کا فرنہیں سمجھتے ۔ ہاں یہ کہتے ہیں کہ ایسے لوگ بعض کفریہ عقائد رکھتے ہیں ۔ اس سے زیادہ ہمارا کوئی مطلب نہیں ہوتا ۔ فرق صرف اتنا