خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 35

$1955 35 خطبات محمود جلد نمبر 36 کیا جاسکتا۔اس کے لئے دلائل دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا تم مشق کرو پھر یہ لذت حاصل ہوگی۔پس جو اتنا مشکل کام ہے اس میں کامیابی کا طریق یہی ہے کہ لوگوں کو اس کی طرف مائل کیا جائے۔اور انہیں مائل اسی صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ انہیں اس سے آگاہ کیا جائے اور واقفیت بہم پہنچائی جائے۔اس سے پہلے کوئی شخص ہمارے دلائل سننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔مگر ہر ایک کو یہ دلائل سنانے کون جائے گا ؟ ہم ربوہ میں بیٹھے ہیں اور ہماری زبان اردو ہے۔چین ہم سے بہت دور ہے اور وہاں اردو زبان نہیں بولی جاتی۔اب ہم اُس ملک کے رہنے والوں کو اپنے دلائل کس طرح سمجھا سکتے ہیں۔انڈونیشیا ہم سے بہت دُور ہے۔وہاں کے رہنے والے نہ ہماری زبان جانتے ہیں اور نہ ہم ان کی زبان جانتے ہیں۔پھر ہم ربوہ میں بیٹھ کر انہیں اپنے دلائل کا قائل کس طرح کر سکتے ہیں۔پھر جاپانی لوگ ہیں وہ ہم سے ہزاروں میل دُور ہیں اور جاپانی زبان ہمیں آتی نہیں ہماری زبان انہیں نہیں آتی پھر ہم انہیں اپنے دلائل کیسے سنا سکتے ہیں۔لیکن لٹریچر کے ذریعہ یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ایک چینی یا ایک جاپانی کو حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ہم اس کے ذریعہ پنے لٹریچر کا ترجمہ چینی یا جاپانی میں کرا کے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے دلائل سنا سکتے ہیں۔ہم خود تو وہاں نہیں جاسکتے لیکن ہماری کتابیں وہاں جاسکتی ہیں ہم خود تو ان کی زبان نہیں جانتے لیکن ہماری کتابوں کا ترجمہ چینی اور جاپانی میں کیا جاسکتا ہے۔اور اسی طرح لٹریچر کو دوسرے لوگوں میں پھیلایا جا سکتا ہے۔مانا یا نہ ماننا ان لوگوں کا کام ہے ہمارا نہیں لیکن اس ذریعہ سے دروازہ کھل جاتا ہے۔اور دروازہ کھلنے سے اس بات کا امکان ہو جاتا ہے کہ وہ ہمارے دلائل کو تسلیم کر لیں۔اس لئے میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر تحریک کی تھی کہ جماعت میں لائبریریاں قائم کی جائیں اور ان میں ہر طرح کا لٹریچر رکھا جائے۔پھر لٹریچر اس رنگ میں شائع کیا جائے کہ وہ زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہو۔قرآن کریم کو ہی دیکھ لو۔یہ ہر زمانہ اور ہر ملک کے لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہے۔لیکن پہلے علماء نے جو تفاسیر لکھی ہیں وہ آجکل کے لوگوں کی تسلی کا موجب نہیں ہو سکتیں۔کیونکہ آجکل جو سوالات پیش آرہے ہیں وہ پہلے پیش نہیں آئے تھے۔اس لئے پہلے علماء نے ان کو اپنی تفاسیر میں حل نہیں کیا۔اب ہم تفسیر لکھتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں۔ایسی تفسیر پہلوں نے نہیں لکھی۔