خطبات محمود (جلد 36) — Page 23
1955ء 23 خطبات محمود جلد نمبر 36 اور یا مقامی جماعت کے عملہ سے ہوتی ہے ۔ مجھے بتایا گیا ہے اور میں نہیں جانتا کہ یہ بات ٹھیک ہے یا غلط ۔ مجھے ان دنوں تحریک کے مرکزی دفتر پر زیادہ اعتبار نہیں کہ زیادہ کمزوری بڑے شہروں کی جماعتوں میں ہے۔ ان میں تحریک جدید کے وعدوں کی طرف توجہ کم ہے۔ شاید انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم سارے وقت میں وعدے اکٹھا کرتے رہیں گے اور پھر آخر میں مرکز میں بھیج دیں گے۔ حالانکہ وقت کے آخر میں آکر کام اس قدرا کٹھا ہو جاتا ہے کہ اسے وقت مقررہ میں پورا کرنا قریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر جماعتیں کام کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے سرانجام دیں تو ان کے لئے کام میں بہت سہولت پیدا ہو جاتی ہے، ان کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور ذمہ داری مرکز پر آپڑتی ہے ۔ مثلاً اگر کسی جماعت نے ساٹھ ہزار کا وعدہ کیا ہے تو وہ تھوڑے سے تھوڑے وقفہ کے بعد دس دس میں ہیں ہزار روپیہ کے وعدے بھجواتے جائیں ۔ اس طرح کام ہلکا ہوتا چلا جائے گا۔ لیکن اگر جماعت خیال کرے کہ میعاد کے آخر میں وہ ہا گا۔لیکن ہلکا تمام وعدے اکٹھے کر کے مرکز کو بھجوا دے گی تو میعاد کے آخری دنوں میں کام اس قدر زیادہ ہو گا کہ اس کا ترتیب دینا مشکل ہوگا ۔ ادھر تبلیغ کا کام خدا تعالیٰ کے فضل سے روز بروز ترقی کرتا جاتا ہے اور نئے نئے علاقوں سے مبلغین کی مانگ آرہی ہے ۔ لوگ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے پاس مبلغ بھیجے جائیں اور اس طرح اسلام کی آواز ان تک پہنچائی جائے ۔ ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ تبلیغ کی سکیم میں اس قسم کی تبدیلی کی جائے کہ موجودہ خرچ میں ہی کام کو آگے پھیلا یا جا سکے ۔ اس وقت تک ہماری یہ رائے ہے کہ نئے مشن کھولنے کی بجائے پرانے مشنوں کو زیادہ مضبوط کیا جائے ۔ ان کے کام کو صحیح طریق پر ڈھالا جائے اور انہیں پہلے سے زیادہ مالی مدد دی جائے ۔ جب وہ مشن اپنا بوجھ اٹھا لیں تو نئے مشن کھولے جائیں ۔ پچھلے دور میں یہ ہوتا تھا کہ جو نہی کسی ملک سے مبلغ کے لئے آواز آتی ۔ ہماری کوشش یہ ہوتی تھی کہ ہم اُس کی آواز کو سنیں اور اُس کا جواب دیں۔ اس کے نتیجہ میں بعض مشنوں نے تو اپنا بوجھ آپ اٹھا لیا لیکن بعض مشن ایسے تھے جو اپنا بوجھ آپ نہیں اٹھا سکے اور ان کا بوجھ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے ۔ پھر انسانی طبائع مختلف ہوتی ۔ ہیں ۔ بعض مبلغ ایسے ہوتے ہیں جو نظم کے عادی ہوتے ہیں وہ مرکز کی ہدایات کے مطابق کام ۔