خطبات محمود (جلد 36) — Page 288
1955ء 288 خطبات محمود جلد نمبر 36 پھر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کو منذ رخواب آ جاتی ہے ۔ لیکن علم تعبیر الرویا سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ اُسے سمجھ نہیں سکتا ۔ وہ اُسے امام یا کسی اور بزرگ کے سامنے بیان کر دیتا ہے اور وہ اس کو خواب کے مُنذر پہلو سے واقف کر دیتا ہے۔ اور اسے استغفار کرنے یا صدقہ دینے کی تلقین کر دیتا ہے۔ اس طرح اُس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔ لیکن اس قسم کی خواب بھی ایسے شخص کو ہی بیان کرنی چاہیے جسے علم نہ ہو کہ خواب منذر ہے یا نہیں ۔ ورنہ اگر اُسے پتا لگ ئے کہ وہ خواب منذر ہے تو رسول کریم ﷺ کا حکم یہی ہے کہ اُسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کیا صلى الله جائے ۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ انذاری خوا ہیں اگر متواتر آئیں تو وہ شیطانی ہوتی ہیں۔ لیکن مبشر خوا ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں 6 ۔ بہر حال ہم سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک قسم کے نائب اور قائم مقام ہیں ۔ صلى الله کرے ہاں آگے درجات میں فرق ہے۔ یعنی کوئی بڑے مقام کا نائب ہے اور کوئی چھوٹے مقام کا ۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک رنگ میں خلیفہ اور قائم مقام ہے۔ جیسے ہر مسلمان رسول کریم ﷺ کا ایک طرح خلیفہ اور قائم مقام ہے بشرطیکہ وہ کوشش کر کہ آپ کے پیغام کو دنیا کے کناروں تک پھیلائے ۔ اس لیے ہم اپنے رویا و کشوف دوسرے دوستوں کو بتا دیتے ہیں تا وہ اُن کے ایمان کی تقویت کا موجب ہوں اور اس طرح کئی لوگ ان سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے رسول کریم ﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر بعض باتیں صحابہ کے سامنے بیان فرمائیں اور پھر فرمایا فَلْيُبَلِّغُ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ 7 یعنی جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ میری ان باتوں کو اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ۔ کیونکہ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سننے والوں کی نسبت زیادہ نصیحت حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس تمہید کے بعد میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں جب انگلستان میں تھا تو ایک دن اخبار الفضل آیا۔ اُس میں یہ خبر چھپی ہوئی تھی کہ سید نذیر حسین صاحب گھٹیالیاں والے فوت ہو گئے ہیں ۔ سید نذیر حسین صاحب پرانے صحابہ میں سے تھے اس لیے طبعاً اُن کی وفات کا مجھے صدمہ پہنچا۔ میں اُن کے لیے دعا کرتے کرتے سو گیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک عورت مجھ سے ملنے کے لیے آئی ہے۔ اُس نے " سوسی" کی شلوار پہنی ہوئی ہے۔ اُس کا کرتا اور دو پٹہ