خطبات محمود (جلد 36) — Page 287
$1955 287 خطبات محمود جلد نمبر 36 والی وحی کے بھولنے سے ہوتا ہے۔بعض دفعہ مجھے بھی کوئی کلمہ خدا تعالیٰ کا سننے کی توفیق ملتی ہے یا کوئی خواب آجاتی ہے یا کوئی کشف ہوتا ہے تو ہمارے مولوی محمد یعقوب صاحب اُس کو اُچھالنے لگ جاتے ہیں۔میں نے ان کو سمجھایا بھی ہے کہ اس طرح زمانہ کے اصل مأمور کی وحی میں ایک قسم کا تداخل ہو جاتا ہے۔یوں خوابوں اور الہامات کو بیان کرنا منع نہیں۔خود رسول کریم ہے بھی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ جایا کرتے تھے اور صحابہ سے پوچھتے تھے کہ اگر کسی کو کوئی خواب آئی ہو تو سنا ؤ3۔اصل بات یہ ہے کہ اگر امام یا کسی بزرگ کے سامنے کوئی خواب یا کشف اس غرض سے بیان کیا جائے کہ وہ دوسرے لوگوں کے لیے زیادتی ، ایمان کا موجب ہو تو وہ درست ہے گوایسا کرنا فرض نہیں۔(لیکن رسول کریم ﷺ پر اپنے الہامات اور رؤیا وکشوف کا بیان کرنا فرض تھا )۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات ایک خواب کسی ایک فرد کو آتی ہے لیکن وہ ہوتی ساری امت کے لیے ہے۔اس لیے امام اُس سے ساری امت کو اطلاع دے دیتا ہے۔جیسے رسول کریم ہے کے زمانہ میں ایک صحابی کو اذان کے الفاظ سنائے گئے۔اُس نے وہ خواب رسول کریم ﷺ کے سامنے بیان کی تو آپ نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ خواب اگر چہ اس شخص کو آئی ہے مگر اس سے مراد میں ہوں اس لیے اس اذان کو نماز کا حصہ بنا لینا چاہیے 4۔چنانچہ آپ نے بنالینا مسلمانوں کو اذان دینے کا حکم دے دیا اور اب سب مسلمان اذان کہتے ہیں حالانکہ اذان رسول صلى الله الله اللہ ﷺ کو خواب میں نہیں بتائی گئی تھی بلکہ ایک صحابی کو بتائی گئی تھی۔ليسا اذان کے الفاظ حضرت عمرؓ کو بھی خواب میں بتائے گئے تھے 5۔مگر وہ کہتے ہیں کہ میں نے شرم کے مارے یہ الفاظ کسی اور کو نہ بتائے کیونکہ وہ صحابی مجھ سے پہلے بیان کر چکے تھے۔پس بعض اوقات خواب کے بیان کرنے کی یہ غرض بھی ہوتی ہے کہ اگر اُس کا اثر وسیع طور پر پیدا ہونے والا ہو تو امام یا کوئی اور صاحب اثر بزرگ اُس کو ساری جماعت میں پھیلا دے۔یا امام خود دیکھے کہ وہ خواب اثر رکھنے والی ہے اور سارے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے تو وہ اُسے لوگوں میں پھیلا دے تا وہ اس سے فائدہ اٹھا لیں۔لیکن اِس طرح خوابوں کو سنانا بھی بطور نفل کے ہے فرض نہیں۔