خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 270

$1955 270 خطبات محمود جلد نمبر 36 طرف آگئے ہیں اور یہاں آزاد ہیں۔لیکن ان کے جو بھائی قادیان میں رہ گئے ہیں اُن کو اتنی تی آزادی میسر نہیں جتنی ہمیں حاصل ہے۔اُن میں سے کئی ایسے ہیں جن کے پاسپورٹ گورنمنٹ نے جمع کر لئے ہیں۔وہ منہ سے تو یہی کہتی ہے کہ جب ضرورت ہوئی یہ پاسپورٹ واپس دے ئیے جائیں گے لیکن عملی طور پر انہوں نے وہ پاسپورٹ اب تک واپس نہیں دیئے۔پس اُن لوگوں کی دلجوئی کے لیے پاکستان کے احمدیوں کو جنہیں یہاں ربوہ میں جلسہ سالانہ دیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے (سوائے اُن لوگوں کے جن کے سپر د خاص خاص کام ہیں اور اُن کے قادیان چلے جانے سے یہاں کا جلسہ خراب ہو جاتا ہے ) اس جلسہ کے موقع پر قادیان جانا چاہیے۔چاہے وہ سال میں چار دفعہ قادیان ہو آئے ہوں انہیں اس موقع پرشستی اور غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے تا وہاں کے ہندوؤں اور سکھوں کو معلوم ہو کہ احمدی اپنے مقدس مرکز قادیان سے محبت کرتے ہیں اور ان کے جو بھائی قادیان رہ گئے ہیں اُن کی بھی دلجوئی ہو۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ مرزا عزیز احمد صاحب نے یہ معاملہ ایسے وقت میں میرے سامنے پیش کیا ہے کہ دوستوں کو قادیان جانے کے لیے تیار کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔کیونکہ وہ لکھتے ہیں کل دس دسمبر کو ہم نے پاسپورٹ جمع کرانے ہیں اور آج 9 دسمبر کو انہوں نے یہ معاملہ میرے سامنے رکھا ہے۔یہ تو اتنی غفلت ہے کہ اس کے معنے سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ خود افسروں کو بھی اس بات کا احساس نہیں کہ ہر کام وقت پر کیا جائے۔مرزا بشیر احمد صاحب ( جب تک ان کی صحت اچھی تھی ) اس بارہ میں کافی کوشش کرتے تھے اور ہر سال قادیان جانے کے لیے سو ڈیڑھ سو افراد کی درخواستیں آجاتی تھیں بلکہ جب شروع شروع میں افراد میں جوش زیادہ تھا تو دو دو تین تین سو افراد کی درخواستیں آجاتی تھیں۔اور دفتر کو قرعہ ڈال کر قافلہ میں جانے والوں کے متعلق فیصلہ کرنا پڑتا تھا۔یہ جوشِ محبت قائم رہنا چاہیے بلکہ اس کو زیادہ کرتے رہنا چاہیے۔پاکستان کے لوگوں کو تو ربوہ آنے کا موقع ملتا ہی رہتا ہے۔ہاں قادیان جانا ان کے لیے مشکل ہے اور وہی ان کے لیے زیادہ اہم بھی ہے تا کہ وہاں رہنے والوں میں مرکز کی خدمت کی روح قائم رہے اور اُن میں زندگی کے آثار باقی رہیں۔پس گواب تو کوئی وقت باقی نہیں رہا کہ میں بیرونی جماعتوں کے دوستوں کو قادیان