خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 267

$1955 267 خطبات محمود جلد نمبر 36 بنانے والا تو خود خدا تعالیٰ ہے۔اس لیے اگر یہ اچھے ہیں تو ہماری کوئی خوبی نہیں۔اور اگر اچھے نہیں تو ہمارا کوئی گناہ نہیں۔لیکن اپنے گھر کے سامنے صفائی رکھنا تو ہماری اپنی خوبی ہے۔سبزہ ، درخت اور پھول لگانے تو ہماری خوبی ہیں۔اب بھی جب میں تصور کرتا ہوں تو یورپ کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ہر گھر میں دروازوں کے آگے چھجے بنے ہوئے ہیں اور اُن پر بکسوں میں بھری ہوئی مٹی پڑی ہے اور اس میں پھول لگے ہوئے ہیں۔جس گلی میں سے گز رو پھول ہی پھول نظر آتے ہیں اور سارا شہر ایک گلدستہ کی طرح نظر معلوم ہوتا ہے۔ربوہ بھی اُسی طرح بنایا جا سکتا ہے۔بڑی محنت کی ضرورت نہیں۔تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔اس سے بیوی بچوں کو باغبانی کا فن بھی آجاتا ہے۔صحت بھی اچھی ہو جاتی ہے اور کچھ آمد کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً گھروں میں خربوزے ، لکڑی اور دوسری چیزیں لگا دی جائیں تو خوبصورتی کی خوبصورتی نظر آئے گی ، صحت بھی اچھی رہے گی اور کھانے کو ترکاری بھی مل جائے گی جو یہاں نصیب نہیں۔میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ یورپ کا ڈاکٹر بھی کہتا ہے کہ سبزیاں کھاؤ اور پاکستان کا ڈاکٹر بھی کہتا ہے کہ سبزیاں کھاؤ۔مگر پاکستان میں سبزیاں نہیں ملتیں۔اگر لوگ گھروں میں سبزیاں لگانے لگ جائیں اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالیں تو اِس سے اُن کی صحت میں بھی ترقی ہوگی۔اور پھر جو شخص گھروں میں سبزیاں لگائے گا اور اُسے سبزی کھانے کی عادت ہوگی وہ دکاندار سے بھی اصرار کرے گا کہ سبزیاں لاؤ۔اور دکاندار آگے زمینداروں سے اصرار کرے گا کہ تم سبزیاں اُگاؤ۔اس طرح ملک میں سبزیاں کاشت کرنے کا رواج عام ہو جائے گا۔پس تم شہر کو خوبصورت بناؤ تا تمہارے دل بھی خوبصورت ہو جائیں۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا کس قدر خیال تھا۔آپ نے فرمایا لوگو ! نماز میں تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو۔اگر تم صفیں سیدھی نہیں کرو گے تو تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے 5۔اب صفیں سیدھی رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ دور سے دیکھنے والے کو صفیں خوبصورت معلوم ہوں۔پس إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَال سے مراد زیبائش ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود بڑا دیدہ زیب ہے اور وہ زیبائش کو ہی پسند کرتا ہے۔سو تم اپنے اندر زیبائش پیدا کرو