خطبات محمود (جلد 36) — Page 265
1955ء 265 خطبات محمود جلد نمبر 36 لیاقت کا سوال ہے یہ بھی غلط ہے۔ مرزا منور احمد اس سے لائق تھا اور پھر اس نے اس سے کئی سال پہلے امتحان پاس کیا تھا۔ پھر جس وقت مرزا منور احمد نے اپنے آپ کو وقف کے لیے پیش کیا تھا اُس وقت صدرانجمن احمد یہ اسے ایک سو پچاس روپے ماہوار تنخواہ دیتی تھی۔ اب تو انجمن نے ابتدائی تنخواہ ساڑھے تین سو چار سو کر دی ہے اور ہزار روپے تک گریڈ کر دیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ہمت دی اور وہ اس قلیل آمد میں گزارہ کرتا رہا۔ بہر حال میں سزا میں جو چندہ قبول نہ کرنے والا حصہ ہے اُسے معاف کرتا ہوں ۔ باقی حصوں کے متعلق میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ کیونکہ میرے دل میں ابھی بشاشت پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن چندہ کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایمان کو دوبارہ درست کرنے کا ذریعہ ہے اس لیے میں اس سے اُسے محروم نہیں کرنا چاہتا میرے بیوی بچے اُسے نہ ملیں تو اس سے اُس کے ایمان کی درستی کا کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن اُس سے چندہ قبول کر لیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ اُسے ہدایت دے دے اور وہ دین کی خدمت کے لیے آجائے ۔ پس میں اُس کی سزا کے اس حصہ کو معاف کرتا ہوں اور صدرانجمن احمد یہ کو اجازت دیتا ہوں کہ اگر وہ چندہ دے تو اُسے قبول کرلے یا اگر وہ وصیت کرنا چاہے تو اُس کی وصیت منظور کر لی جائے ۔ شاید اسی طرح اُس کے ایمان اور دل کی کمزوری دور ہو جائے ۔ میں جماعت کے دوستوں سے بھی کہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کی اصلاح جماعت کی اصلاح ہے۔ اس لیے وہ بھی دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اس کے دل کے زنگ کو دور کرے اور اس کے ایمان کو بڑھائے تا وہ حوصلہ کر کے سلسلہ اور اپنے احمدی بھائیوں کی خدمت کو روپیہ پر مقدم کرلے ۔ اگر تم لوگ دعائیں کرو تو کوئی تعجب نہیں کہ خدا تعالیٰ اس کے دل سے دنیا اور روپیہ کی محبت کو دور کر دے اور وہ اپنی اصلاح کرلے ۔ آخر اس کا چھوٹا بھائی مرزا مجید احمد جو ایم ۔ اے ہے اور کالج میں پروفیسر ہے وقف کر کے یہاں آگیا ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ اگر اس کے باپ کا ایک بیٹا اور اسکے تایا کے بیٹے زندگی وقف کر کے یہاں آگئے ہیں تو وہ نہ آسکتا ہو۔ اگر ابھی تک وہ زندگی وقف کر کے نہیں آیا تو اس کی وجہ محض دنیا کی لالچ اور دین کی محبت کی کمی ہے اور کچھ نہیں ۔ پس ایک تو میں نے مرزا مبشر احمد کی سزا کی معافی کے متعلق اعلان کیا ہے۔ اور دوسرے