خطبات محمود (جلد 36) — Page 259
1955ء 259 خطبات محمود جلد نمبر 36 سے ہمارے کام کا اس قدر نقصان ہوا ہے۔ اِس طرح اُن کے کام کی رفتار ٹھیک رہتی ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں اس کی کوئی پروانہیں کی جاتی اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آدھا حصہ آبادی کا بیمار رہا ہے۔ اس لیے ملک کی آمد کا دسواں یا بارہواں حصہ ضائع ہو گیا ہے ۔ پس یہاں کی میونسپل کمیٹی کو چاہیے کہ وہ پانی کا انتظام کرے اور پھر اسے رولر کا بھی انتظام کرنا چاہیے تا سڑکوں کو پختہ بنایا جا سکے ۔ محلوں کی کمیٹیوں کو چاہیے کہ وہ کمیٹی سے تعلق رکھنے والے امور کے متعلق ریزولیوشن پاس کر کر کے اُسے بھجوائیں کیونکہ میونسپل کمیٹی ان کا نمائندہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ گورنمنٹ کا ادارہ ہے لیکن گورنمنٹ نے آپ ہی اسے پبلک کے ماتحت رکھا ہوا ہے۔ تبھی تو اس کے لیے پبلک اپنے نمائندے مقرر کرتی ہے۔ پس تم ریزولیوشن پاس کر کر کے میونسپل کمیٹی کو بھجوا ؤ اور اُس سے کہو کہ وہ ان امور کی طرف توجہ کرے۔ پبلک کی خدمت کرنا اُس کا فرض ہے اس لیے اسے اپنے اس فرض کو پورا کرنا چاہیے۔ میں نے میونسپل کمیٹی والوں کو صفائی کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے ایک شکوہ کیا جو نہایت افسوس ناک ہے۔ اور وہ یہ کہ یہاں کے 80 فیصدی لوگ ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہے۔ اور وہ یہ سے بچنے ہیں ۔ حالانکہ اگر میونسپل کمیٹی کی آمد ہی نہایت قلیل ہو تو وہ پبلک کی کیا خدمت کرے گی ۔ ہمیں تو یہ کوشش کرنی چاہیے تھی کہ اگر کوئی شخص ایک روپیہ ٹیکس دیتا ہے تو وہ ایک رو پیدا ایک آنہ ٹیکس دے۔ کیونکہ اگر ان کے پاس روپیہ کافی جمع ہو جائے تو اس کا فائدہ ہمیں ہی پہنچے گا کیونکہ وہ روپیہ ہماری صحت اور تعلیم وغیرہ پر خرچ ہوگا ۔ مثلاً اب جتنا روپیہ بھی میونسپل کمیٹی وصول کرتی ہے وہ عملہ پر خرچ ہو جاتا ہے ۔ فرض کرو موجودہ آمد سے سوائی رقم اسے وصول ہو تو جو زائد چونی آئے گی وہ عملہ پر خرچ نہیں ہو گی کیونکہ عملہ کا خرچ تو چل رہا ہے ۔ وہ چونی پبلک کے فائدہ کے لیے خرچ ہوگی ۔ پس میونسپل کمیٹی کا ٹیکس ادا نہ کرنا بڑے مجرم کی بات ہے۔ اس سے دوستوں کو احتراز کرنا چاہیے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ طریق تھا کہ آپ ایسا کرنے سے دوستوں کو ہمیشہ منع فرمایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ کے پاس ایک مخلص احمدی آیا۔ کسی نے اُس کے متعلق