خطبات محمود (جلد 36) — Page 234
$1955 234 خطبات محمود جلد نمبر 36 ایمانوں کو مضبوط کرو تو خدا تعالیٰ خود یہ سب کام کر دے گا اور وہ تمہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ مَا كَانَ اللَّهُ لِيَتُرُ كَكَ حَتَّى يَمينَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ و یعنی خدا تعالیٰ آپ کو اُس وقت تک بے یار و مددگار نہیں چھوڑے کی گا جب تک کہ وہ نیکی اور بدی میں امتیاز نہ کر دے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کیا کرتا۔بے شک شیطان جھوٹ بولتا اور وعدہ خلافی کرتا ہے لیکن خدا تعالیٰ جھوٹ نہیں بولتا اور نہ وعدہ خلافی کرتا ہے۔پس تم اُس سے دعائیں کرو اور اپنے تعلق کو کی نسبت زیادہ مضبوط بناؤ تاکہ وہ تمہاری مدد کے لیے آسمان سے اُتر آئے اور تمہاری مشکلات دور ہو جا ئیں۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا۔میں اپنی صحت کے بارے میں بھی دوستوں سے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں۔یورپ سے واپس آکر کراچی میں پہلے چند دن تو میری طبیعت سفر کی کوفت کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی لیکن پھر وہ کیفیت جاتی رہی اور طبیعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھی ہو گئی۔یہاں آنے پر میری طبیعت پھر خراب ہونی شروع ہو گئی جس کی وجہ سے خطبہ پڑھنے کے بعد میں بہت تھک جاتا تھا اور طبیعت پر وحشت سی طاری ہو جاتی تھی۔لیکن اب اس وحشت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کمی ہے اور تھکان بھی کم محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ پچھلے جمعہ کا خطبہ پڑھنے کے بعد میں نے کافی تھکان محسوس کی تھی۔لیکن آج وہ کیفیت نہیں۔گو آج بھی میں تھکا ہوں لیکن پچھلے جمعہ جتنا نہیں اور میرا دماغ پہلے سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہے۔میں نے اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں طبیعت پر بوجھ نہ پڑے خطبہ بند کر دیا ہے ورنہ اگر میں چاہتا تو دس پندرہ منٹ اور بھی بول سکتا تھا۔مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ میری صحت کا دارو مدار دوستوں کی دعاؤں پر ہے۔میں یورپ میں تھا تو میں نے زیورچ میں خواب دیکھا کہ ایک اونچی سی جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری ساری جماعت کھڑی ہے اور اُس سے رو رو کر دعائیں کر رہی ہے۔اور میری طرف اشارہ کر کے کہتی ہے کہ خدایا ! اس شخص نے تجھے ہمارے اتنا قریب کر دیا تھا کہ ہم یوں محسوس کرتے تھے کہ تو آسمان سے اتر کر ہمارے پاس آ گیا ہے۔پھر یہ شخص ہمیں قرآن کریم سناتا اور اس طرح سنا تا کہ ہمیں یوں محسوس ہوتا کہ تیری وحی جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی ہے وہ آج ہمارے سامنے نازل ہورہی ہے۔