خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 14

$1955 14 خطبات محمود جلد نمبر 36 جب تک کسی کا ایمان خوف اور رجاء کے درمیان نہ ہو اس کے کسی کام کا صحیح نتیجہ نہیں نکلتا۔اس لئے آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے اٹھنے کا موقع بھی دیا ہے اور گرنے کا موقع بھی دیا ہے۔اگر میں پوری محنت نہیں کروں گا تو میں گروں گا۔اور اگر میں پوری محنت کروں گا اور اس کے بعد خدا تعالیٰ پر توکل رکھوں گا تو میں جیتوں گا۔آپ نے یہ دونوں باتیں بیان کر کے واضح کر دیا ہے کہ انسان کے لئے محنت اور توکل کرنا ضروری ہے۔اگر ہم محنت نہیں کریں گے تو ہمارے کام خراب ہوں گے۔اور اگر ہم تو کل نہیں کریں گے تو کامیاب نہیں ہوں گے۔گویا خدا تعالیٰ انسان کی محنت کی تکمیل کرتا ہے اس کا قائمقام نہیں ہوتا۔اگر وہ انسان کی محنت کا قائمقام ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ جھوٹی ہوتی۔آپ نے اِذَا مَرِضْتُ کہہ کر بتایا ہے کہ اگر میں بیمار ہونا چاہوں تو خدا تعالیٰ مجھے بیمار ہونے سے نہیں روکتا۔اور فَهُوَ يَشْفِينِ کہہ کے بتایا کہ میں کامل شفا حاصل نہیں کر سکتا۔کامل شفا دینے والی خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور یہی ترقی اور کامیابی کی کلید ہے۔جب تک کوئی قوم اس گر کو نہیں سمجھتی وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔یورپ اور امریکہ کیوں ترقی کر رہے ہیں؟ وہ اس لئے ترقی کر رہے ہیں کہ انہوں نے اس اصول کا ایک حصہ پورا کر دیا ہے۔اور ہم ناکام اسی لئے ہور ہے ہیں کہ ہم نے اس کے دونوں حصوں کو گرا دیا ہے۔اگر کسی زمیندار کے پاس ایک بیل ہو تو وہ ہل چلا لیتا ہے۔لیکن دونوں بیل ہی نہ ہوں تو وہ ہل نہیں چلا سکتا۔دنیا میں سینکڑوں ہزاروں ایسے زمیندار پائے جاتے ہیں جو ایک بیل سے ہل چلا لیتے ہیں۔اگر کسی کے پاس ایک ہی گھوڑا ہو تو فٹن 2 نہ سہی وہ اتکا 3 چلا سکتا ہے۔اسی طرح ورپ نے تو کل کرنا چھوڑ دیا ہے لیکن چونکہ اس نے محنت والا حصہ پورا کر دیا ہے اس لیے وہ ترقی کر رہا ہے۔ہم نے دونوں حصوں کو ترک کر دیا ہے اس لئے ہم ناکام رہتے ہیں۔پھر جب ہم کوئی کام کرتے ہیں اور اس میں ناکام ہوتے ہیں تو اس ناکامی کو ہم اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔بلکہ یہ کہتے ہیں کہ محنت تو کی تھی خدا تعالیٰ نے کامیاب نہیں کیا تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔اور اگر کچھ مل جاتا ہے تو ہم یہ تمام باتیں بھول جاتے ہیں اور اپنی کامیابی کو اپنی طرف منسوب کرتے ہیں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض بے وقوف انسان ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب انہیں کوئی ترقی حاصل ہوتی ہے تو کہتے ہیں یہ ہمارے علم اور طاقت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔