خطبات محمود (جلد 36) — Page 222
1955ء 222 31 خطبات محمود جلد نمبر 36 قرآن کریم اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الہامات صلى الله دونوں آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین قرار دیتے ہیں فرموده 4 نومبر 1955ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔ مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ 1 اس کے بعد فرمایا۔ دو قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے جہاں اور بہت سے نام آئے ہیں وہاں آپ کا ایک نام خاتم النبین بھی آیا ہے۔ اور گو خاتم النبین کی مختلف تاویلیں کی جاتی ہیں لیکن لفظ خاتم النبین پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اور ہم بھی رسول کریم ﷺ کو سچے دل سے خاتم النبین تسلیم کرتے ؟ عروسه صلى الله ہیں ۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اُس کو میں ” بے دین اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں 2 ۔ لیکن پچھلے دنوں جب ہماری جماعت کے خلاف ملک میں شورش پیدا ہوئی تو ہم پر یہ الزام لگایا گیا کہ ہم رسول کریم علی کو نعوذ بالله خاتم النبین نہیں مانتے ۔ ہم نے متواتر اس بات پر زور دیا کہ ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جب قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین قرار دیا گیا ہے تو ہم آپ کے