خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 13

1955ء 13 خطبات محمود جلد نمبر 36 یورپ اور امریکہ کیوں ترقی کر رہے ہیں حالانکہ وہ خدا تعالیٰ کے عملاً یا کچھ قولاً بھی منکر ہیں ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اول تو محنت سے کام کرتے ہیں اور پھر نا کامی کی صورت میں نتیجہ کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالتے ۔ اگر خدا تعالیٰ انسان کے دخل کے بغیر کام کر دیا کرتا۔ تو امریکہ اور یورپ والے کیوں کامیاب ہوتے ۔ خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرتا اُن کی مدد نہ کرتا۔ حال ہی میں انگلستان کے ریڈیو پر ایک عورت نے لیکچر دیا ہے اور وہ اخبارات میں چھپا ہے کہ اگر تم نے ترقی کرنی ہے تو خدا کو بالکل بھول جاؤ۔ اور اگر خدا بنانا ضروری ہے تو اپنے اچھے کاموں کو خدا اور برے کاموں کو شیطان سمجھ لو۔ لیکن خدا تعالیٰ کے وجود سے انکار کے باوجود وہ برابر ترقی کر رہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے مرد اور عورت دیووں کی طرح کام کر رہے ہیں ۔ اگر خدا تعالیٰ ہی سب کام کر رہا ہوتا تو وہ روس، امریکہ اور یورپ والوں کو سست بنا دیتا اور تمہیں پست بنا دیتا۔ لیکن حالت یہ ہے کہ تمہارے حالات خراب ہیں اور انہوں نے خوب ترقی کر لی ہے ۔ اب یا تو یہ کہو کہ خدا تعالیٰ ماہر نہیں اور شیطان ماہر ہے چونکہ ان کے ساتھ شیطان ہے اس لئے وہ جیت جاتے ہیں اور تمہارے ساتھ چونکہ غریب خدا ہے، اسے کچھ آتا نہیں اس لئے تم ہر میدان میں ہار جاتے ہو۔ اور یا یہ کہو کہ خدا تعالیٰ تم سے بھی کچھ کام کروانا چاہتا ہے۔ اگر تم محنت کرتے ہو تو وہ تمہاری مدد کرتا ہے ۔ اور اگر تم محنت نہیں کرتے تو وہ تمہاری مدد نہیں کرتا اور تم ناکام رہتے ہو۔ اور یہی حقیقت ہے کہ جب تک تمہارے اندر حضرت ابراہیم والا ایمان پیدا نہیں ہوتا اور جب تک تمہارے اندر وَ إِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ 1 والا احساس پیدا نہیں ہوتا ، جب تک تم یہ نہیں سمجھتے کہ بیمار ہم ہوں گے شفاء خدا تعالیٰ دے گا، جب تک تم یہ نہیں سمجھتے کہ جب بھی کوئی کمزوری آئے گی وہ ہماری طرف سے ہوگی اور جب ہم میں قوت اور طاقت پیدا ہو گی تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی اُس وقت وقت تک تم کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ لیکن جب تم یہ احساس پیدا کر لو گے تو تمہارے اندر ایک زبردست محرک پیدا ہو جائے گا۔ وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ میں ایک نکتہ بیان ہوا ہے۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اس میں دو باتیں مد نظر رکھی ہیں۔ اگر آپ صرف اِذَا مَرِضْتُ کہہ دیتے تو پھر مایوسی ہی مایوسی ہوتی ۔ اور اگر فَهُوَ يَشْفِينِ کہہ دیتے تو امید ہی ام تے تو امید ہی امید ہوتی ۔ اور یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔