خطبات محمود (جلد 36) — Page 12
$1955 12 خطبات محمود جلد نمبر 36 تربیت سے انقلابی وجود بنانا ہو تو وہ بغیر کسی ذریعہ کے نہیں بنے گا۔اور وہ ذریعہ انسانی کاموں میں کی یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ احساس ہو کہ اگر اس کی محنت بار آور ہوئی تو وہ عزت پا جائے گا ، وہ سرخروئی حاصل کرلے گا ، وہ قوم میں وقار حاصل کرلے گا، اور اگر ناکام رہا تو قوم اُس کی زبان کے سارے بہانے رد کر دے گی اور کہے گی یہ شخص کذاب ہے اس نے ہماری قوم کا بیڑا غرق کیا ہے۔جس شخص کے اندر یہ احساس موجود ہے کہ وہ کامیاب ہو جائے گا اور جس شخص کے اندر یہ احساس نہیں وہ جانتا ہے کہ اس کی قوم بے وقوف ہے اور اپنی ناکامی کی صورت میں وہ اسے دھوکا دے سکتا ہے۔یا اس کی قوم میں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو سستی تعریف حاصل کرنے کے عادی ہیں۔اگر نا کامی کی صورت میں قوم نے اسے سزادی تو اس قسم کے لوگ اس کی سفارش لے کر افسران بالا کے پاس چلے جائیں گے۔اب اگر وہ لوگ دیانتدار ہیں اور سفارش کرنے والے بھی سمجھتے ہیں کہ وہ اس قسم کی سفارشات کو رد کر دیں گے اور قومی مفاد کو انفرادی مفاد پر ترجیح دیں گے تو پھر بھی سفارش کرنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بات افسر نے تو ماننی ہی نہیں۔ہاں اگر ہم سفارش لے کر اس کے پاس چلے جائیں گے تو ہم لوگوں میں مقبول ہو جائیں گے۔لیکن اگر وہ بددیانت ہیں تو یقیناً اس قسم کے طرز عمل سے قوم کا بیڑا غرق ہوگا۔کیونکہ جب بھی کسی قوم کے افراد کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ کام کا نتیجہ ان کی طرف منسوب نہیں ہوگا بلکہ وہ نا کامی کی صور میں نتیجہ کو خدا تعالیٰ یا پھر قسمت کی طرف منسوب کریں گے یا کسی نامعلوم عنصر کی طرف منسوب کر دیں گے اور اس طرح ان کی پردہ پوشی ہو جائے گی تو پوری جدوجہد کا احساس کبھی بھی ان میں پیدا نہیں ہوگا۔پس جماعت یہ فیصلہ کرے کہ اس نے محنت کرنی ہے۔اور پھر محنت صحیح کرنی ہے۔اور پھر وہ یہ فیصلہ بھی کر لے کہ اگر اس کے کسی کام کا نتیجہ خراب نکلا تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جد و جہد صحیح طور پر نہیں ہوئی۔یہ کہہ دینا کہ ایسا خدا تعالیٰ نے کیا ہے اول درجہ کا جھوٹ ہے۔خدا تعالیٰ کسی کام کا خراب نتیجہ نہیں نکالتا۔اگر اس کے کسی کام کا خراب نتیجہ نکلا ہے تو یہ اُس کا اپنا قصور ہے۔اگر تم ایسا کر لو تو تمہارے اندر ایک اُمنگ اور ولولہ پیدا ہو جائے گا۔تمہاری جد و جہد بہت زیادہ تیز ہو جائے گی۔