خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 207

1955ء 207 خطبات محمود جلد نمبر 36 میرے پاس لے آؤ تو میں کیا کروں؟ کیا میں اسلام کی محبت کو نظر انداز کر سکتا ہوں؟ کیا میں اس کی اشاعت کے فرض سے غافل ہو سکتا ہوں؟ غالب نے کہا ہے ۔ گو ہا تھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے 6 پس بے شک میں کمزور ہوں ۔ لیکن جب تک میرا دماغ کام کرتا ہے اسلام کے غلبہ کے خیالات میرے دماغ سے نہیں جا سکتے ۔ چندہ زیادہ آئے گا تو میری تشویش بھی کم ہوگی اور تشویش کم ہوگی تو بیماری کم ہوگی ۔ اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے سلسلہ میں مجھے راحت میسر آجائے ۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر کوئی گھبراہٹ والی بات نہ ہو تو آپ کو پوری صحت ہو جائے گی ۔ اور گھبراہٹ مجھے اُس وقت ہوتی ہے جب مجھے اسلام کے راستہ میں مشکلات نظر آتی ہوں ۔ پس میری صحت تمہاری جد و جہد اور تمہارے ایمان سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر تم اپنے اور اپنے ساتھیوں کے ایمان کو مضبوط کر لو اور اسلام کی اشاعت کے لیے ہر قربانی کرنے کے لیے تیار رہو تو میری صحت بھی ترقی کر سکتی ہے ۔ گوڈاکٹروں نے مجھے کہا ہے کہ میں اب سات سات گھنٹے بھی تقریر کر سکتا ہوں ۔ لیکن میری اپنی حالت یہ ہے کہ میں جمعہ کا خطبہ دیتا ہوں تو اس کا بھی میری طبیعت پر اثر پڑتا ہے۔ پھر جب میں دیکھتا ہوں کہ اسلام خطرہ میں ہے اور جماعت میں اس کے لیے قربانی کی ابھی پوری روح پیدا نہیں ہوئی تو میرا دل بیٹھ جاتا ہے اور مجھے گھبراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔ پس میری یہ گھبراہٹ اپنے لیے نہیں بلکہ خدا اور اُس کے رسول کے لیے ہے۔ اور میں اسے اپنے ایمان کا جزو سمجھتا ہوں اس لیے میں اسے کیسے دُور کروں ۔ اور میں اپنے ایمان کو ڈاکٹروں کی خاطر کس طرح قربان کردوں ۔“ 66 خطبہ کے آخر پر حضور کے ارشاد کے مطابق اعلان کیا جاتا ہے کہ جماعتہائے احمد یہ ہندوستان بھی اپنے حصہ کے طور پر ایسا کر سکتی ہیں کہ 300 روپے سالانہ یا ایک سور و پیہ سالانہ ہی ادا کر کے اس نئے مشن کے اخراجات میں شریک ہو جائیں۔ اسی طرح مشرقی بنگال کے احباب بھی 500 روپیہ سالا نہ دے کر اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ تین ہزار روپیہ کی حد میں شامل ہو سکتے ہیں ۔“ 66 )الفضل 26 اکتوبر 1955ء 23 :1 فاطر