خطبات محمود (جلد 36) — Page 206
$1955 206 خطبات محمود جلد نمبر 36 انہیں اس کام کے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہالینڈ مشن کے مبلغ کو بھی چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے کہا تھا کہ تم نو مسلموں سے چندے لو۔میں اُنہیں اُسی وقت احمدی سمجھوں گا جب وہ چندہ دینا شروع کر دیں گے۔اور یہ بات بالکل درست ہے۔مبلغوں کو یا درکھنا چاہیے کہ ہم اُن کے کام کو اُس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک کہ اُن کے نو مسلم چندہ بھی نہ دینے لگیں۔مجھے یاد ہے ایک شخص کو شروع زمانہ خلافت میں ایک شخص نے چندہ کی تحریک کی تو اس نے کہا میں چندہ نہیں دے سکتا۔میں نے سنا تو اُس کا رکن کو ہدایت دی کہ تم اُس سے کہو کہ تم صرف آٹھ آنے ہی دے دیا کرو۔لیکن کچھ نہ کچھ ضرور دیا کرو آہستہ آہستہ اُسے چندہ دینے کی عادت پڑ جائے گی۔چنانچہ اُس نے آٹھ آنے چندہ دینا شروع کیا۔مگر پھر آپ ایک وقت ایسا آیا کہ اُس نے ہزاروں روپے چندہ دیا۔اسی طرح جماعت میں اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے وصیت کی اور پھر کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے درخواست کی کہ ہمیں پندرھویں یا سولہویں حصہ کی وصیت کی اجازت دیدی جائے اور ہم نے انہیں اجازت بھی دیدی۔لیکن بعد میں انہوں نے لکھا کہ ہم سمجھتے ہیں ہم سے یہ گناہ سرزد ہوا ہے اور اس کی تلافی کے لیے اب ہماری نویں حصہ کی وصیت قبول کی جائے۔پس جو خدا تعالیٰ کی راہ میں دیتا ہے اُس کا قدم قربانیوں کے میدان میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔تم بھی دوسروں میں اس چندہ کی تحریک کرو تا کہ مشعوں کو اور زیادہ ترقی دی جا سکے۔اس وقت بیرونی ممالک کی جماعتوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بڑے شوق سے چندہ دیتے ہیں۔مثلاً امریکہ والے ہیں یہ لوگ دیر سے آگے آئے ہیں لیکن چندہ دیتے ہیں۔اگر وہاں جماعت زیادہ پھیل جائے تو وہ یورپ کے مشنوں کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔لیکن اس کے لیے صحیح رنگ میں جد و جہد کرنے کی ضرورت ہے۔پس تم اپنے چندوں کو بڑھاؤ۔لوگوں کے پاس جا جا کر اُن سے وعدے لکھوا ؤ اور بغیر میری تحریک کے نومبر کے آنے سے پہلے اپنے چندے پچھلے سال سے زیادہ کر لو۔پھر بقائے بھی ادا کر و۔اگر تم یہ کام کرو گے تو اللہ تعالیٰ کا فضل تم پر نازل ہوگا اور میری دعائیں بھی تمہیں ملیں گی۔پھر جب جماعت کا بوجھ دُور ہوگا تو مجھے بھی راحت ہوگی۔ڈاکٹروں نے مجھے بار بار کہا ہے کہ کوئی گھبراہٹ والی بات آپ کے پاس نہیں آنی چاہیے۔لیکن اگر تم خود ہی گھبراہٹ والی باتیں