خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 198

خطبات محمود جلد نمبر 36 198 $1955 دیکھو رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں اسلام کی خدمت کی کتنی سچی روح تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اسلام کا خادم اور اس کا بوجھ اٹھانے والا اور کون ہوسکتا ہے۔آپ کی پر اگر صحابہ مایوس ہو جاتے اور خیال کرتے کہ آپ کے بعد اسلام کا بوجھ اب کون اٹھائے گا اور منتشر لوگوں کو کون اکٹھا کرے گا ، اب تو نقطۂ مرکز یہ ہی ختم ہو گیا ہے، ابھی اسلام کا بیج ہی ڈالا گیا تھا اور اس کی کونپل بھی نہیں نکلی تھی کہ مالی اٹھ گیا تو اسلام کا کیا بنتا۔لیکن خدا تعالیٰ کی ان گنت رحمتیں اور برکتیں ہوں حضرت ابو بکر پر کہ وہ اُس وقت مسجد میں آکر مایوس دلوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور آپ نے اُن کے سامنے ایک نکتہ پیش کیا جو مسلمانوں کو قیامت تک یاد رکھنا چاہیے۔اور وہ نکتہ یہ تھا کہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّداً قَدُمَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ 2 کہ تم میں سے جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کیا کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ آپ کی زندگی تک ہی اِس سلسلہ نے جاری رہنا تھا اب انہوں نے کس کو خوش کرنا ہے ، اب کس کی مجلسوں میں لوگ بیٹھیں گے، کس کی زیارت اور ملاقات کے لیے انہوں نے یہاں آنا ہے۔تو ایسے شخص کو پتا لگ جانا چاہیے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور کچھ وقت کے بعد آپ کی نعش مبارک کو دفن کر دیا جائے گا۔لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔کیونکہ منتشر مسلمانوں کو جمع کرنے والا ، اُنہیں دین کی طرف واپس لانے والا اور تا ابد زندہ رہنے والا ہمارا خدا اب بھی موجود ہے۔اس لیے انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔رسول کریم ﷺ کی وفات پر اب 1300 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔لیکن اب بھی اللہ تعالیٰ دنیا میں ایسے لوگ کھڑے کرتا رہتا ہے جو منتشر مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر جمع کرتے اور انہیں یہ نصیحت کرتے رہتے ہیں کہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّداً فَإِنَّ مُحَمَّداً قَدُمَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ اِس آواز پر لوگ پھر جمع ہو جاتے اور اسلام کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم ہی یہ کی وفات کے بعد پہلے حضرت ابو بکر کھڑ۔ہوئے اور انہوں نے منتشر لوگوں کو اکٹھا کیا۔پھر حضرت عمرؓ کھڑے ہوئے۔اس کے بعد حضرت عثمان کھڑے ہوئے۔اور ان کے بعد حضرت علی * کھڑے ہوئے۔ان کے بعد متعدد بزرگ