خطبات محمود (جلد 36) — Page 172
1955ء 172 خطبات محمود جلد نمبر 36 بہت کچھ ہے۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں گرمی کی وجہ سے میری صحت کو سخت نقصان پہنچا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کوئی شخص میرے جسم کو ہلا رہا ہے اور میں جھول رہا ہوں ۔ اس وجہ سے میرے لئے اطمینان کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہے۔ صلا بہر حال میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ ہمیشہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رسول کریم ﷺ کے خادم تھے اور آپ اسلام کی اشاعت کے لیے تشریف لائے ۔ اگر آپ لوگوں کا یہ دعوئی صحیح ہے تو پھر آپ کو اُس کام کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں بھیجے گئے تھے۔ دنیا میں اس وقت اڑھائی ارب کی آبادی ہے۔ لیکن ہمارا صرف سو ڈیڑھ سو مبلغ باہر کام کر رہا ہے اور تمہیں چالیس یہاں تیار ہو رہے ہیں۔ گویا ابھی کام کی ابتدا ہے۔ شروع شروع میں جو وقف کرنے والے تھے اُن کی اولاد میں سے کوئی بھی وقف کی طرف نہیں آیا ۔ اگر تم ان لوگوں کی ایک لسٹ بناؤ تو ایک تماشا بن جائے ۔ سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زندگی وقف کی تھی۔ لیکن آپ کے خاندان میں سے اب صرف میری اولا د واقف زندگی ہے۔ باقی سب نوسو اور ہزار روپیہ ماہوار کے پھیر میں پڑے ہوئے ہیں ۔ گویا چشمہ سرے سے ہی گدلا ہو گیا ہے ۔ حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت کے وقت ہر شخص سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھے گا۔ اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے یہی معنے تھے کہ اگر مجھے یہاں پچاس روپے ماہوار ملیں گے اور باہر مجھے پانچ سو روپے ملیں گے تو میں پچاس کو پانچ سو پر ترجیح دوں گا۔ لیکن اب اس عہد لینے والے کی اپنی اولاد کیا کر رہی ہے؟ ان میں سے کوئی پندرہ سو اور دو ہزار کے پھیر میں پڑے ہوئے ہیں ۔ پھر باقی لوگوں کا کیا قصور ہے۔ وہ تو کہیں گے کہ جب عہد لینے والے کی اپنی اولاد پندرہ سو اور دو ہزار کے پھیر میں پڑی ہوئی ہے تو ہم کیوں پندرہ سو اور دو ہزار کے پھیر میں نہ پڑیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب نے اُس روپیہ سے پرورش پائی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو خدا تعالیٰ نے دیا تھا۔ اور الہاماً بتایا تھا کہ ” یہ تیرے لیے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لیے ہے 1۔ اس نے یہ کبھی نہیں کہا کہ یہ تیرے لئے اور تیری اولاد میں سے