خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 155

$1955 155 خطبات محمود جلد نمبر 36 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہی کچھ قلم سے دے دیا جو پہلوں کو تلوار کے نتیجہ میں ملا تھا۔جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ بھی کہا تھا اب اسلام کی بنیاد کو دوبارہ استوار کیا جا رہا ہے کیونکہ بارشوں اور طوفانوں کی کثرت کی وجہ سے اسلام کی عمارت میں کمزوری پیدا ہو چکی تھی ، اس کی دیواروں میں رخنے پڑ گئے تھے، اس کی سفیدی اتر چکی تھی ، اس کی اینٹیں اپنی جگہ چھوڑ چکی تھیں اور اس کی چھت میں بڑے بڑے سوراخ ہو چکے تھے۔خدا تعالیٰ نے اسلام کی اس عظیم الشان عمارت کی مرمت کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کو اس قلعہ کا پاسبان مقر فرمایا تا کہ اسلام کی یہ گرتی ہوئی عمارت پھر اپنی بنیادوں پر استوار ہو جائے اور دشمن کے حملے ناکام ہو جائیں۔چنانچہ آپ آئے اور آپ نے نئے سرے سے اس عمارت کے فرش اور دیواروں پر سیمنٹ کر دیا۔اس کے اندر دوبارہ سفیدی کر دی، اس کے تمام سوراخ بند کر دیئے اور اسے پھر ایک مضبوط قلعہ کی شکل میں تبدیل کر دیا۔اب کسی کی طاقت نہیں کہ وہ اسلام کی دیوار کو گرا سکے۔پھر خدا نے اس عمارت کی صرف مرمت ہی نہیں کی بلکہ ایک نئی فوج بھی تیار کر دی جو قلعہ کی حفاظت کے لئے اس کے سامنے کھڑی ہے۔اب دشمن کی مجال نہیں کہ وہ اس قلعہ کی طرف بڑھے اور اس پر حملہ کر سکے کیونکہ اس قلعہ کے محافظین کے دلوں میں خدا اور اس کے رسول کی محبت ہے۔وہ اس کی رضا کے لیے اپنے وطنوں کو چھوڑتے ہیں اور غیر ملکوں میں سالہا سال تک رہ کر دین کی اشاعت کے لیے جد و جہد کرتے ہیں۔ہمارے مبلغین میں ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ انہوں نے اسلام کی اشاعت کے لیے اپنی زندگی وقف کی اور شادی کے چند ہفتہ بعد ہی غیر ممالک میں چلے گئے۔چونکہ میاں بیوی اگر ایک رات بھی اکٹھے رہیں تو بعض دفعہ حمل ہو جاتا ہے۔اس لیے ان کے پیچھے ہی بچے پیدا ہوئے اور وہ سالہا سال تک اپنے باپ کی شکل تک دیکھنے کو ترستے رہے۔ایک مبلغ جو شادی کے معا بعد تبلیغ اسلام کے لئے چلے گئے تھے اُن کا بچہ اُن کے جانے کے بعد پیدا ہوا اور پھر بڑے ہو کر اسکول میں تعلیم حاصل کرنے لگا۔جب وہ دس سال کا تھا تو ایک دن وہ اسکول سے اپنے گھر آیا اور اپنی ماں سے کہنے لگا کہ اماں !الڑ کے جب اسکول میں آتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارا ابا یہ لایا، ہمارا ابا وہ لایا۔میرا بھی کوئی ابا ہے یا نہیں؟