خطبات محمود (جلد 36) — Page 154
$1955 154 خطبات محمود جلد نمبر 36 اُس وقت مکان بنایا جب صرف دوسو یا چار سو گھر تھا۔مگر اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ربوہ میں اُس وقت ہجرت کی جب صرف تین خیمے لگے ہوئے تھے۔غرض اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں کے مہاجر بننے کا بھی رستہ کھول دیا۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ وہ لوگ جو بعد میں ایمان لائیں گے اور خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی کے لیے ہجرت کریں گے اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لیے جہاد کریں گے فاوليك مِنْكُمُ اے صحابہ اوہ تم میں سے ہی ہوں گے۔دیکھو! خدا جس طرح صحابہ کا تھا اُسی طرح تمہارا ہے۔اُس نے جب دیکھا کہ بعد میں آنے والوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہوں گے۔جن کے دلوں میں ایمان ہوگا اور وہ چاہیں گے کہ اُن کے لیے بھی صحابیت کا رستہ کھولا جائے تو اُس نے ان کے دلوں کا بھی خیال رکھا اور فرمایا وَالَّذِينَ آمَنُوْا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَيكَ مِنْكُمْ کہ وہ لوگ جو ان کے بعد ایمان لائیں گے اور ہجرت کریں گے اور اسلام کی خدمت کے لیے جہاد کریں گے وہ بھی تم میں ہی شامل ہوں گے۔دیکھو! اللہ تعالیٰ نے کس طرح تمہارے صحابی ہونے کا رستہ کھول دیا۔ضرورت یہ ہے کہ تم اپنے اندر پختہ ایمان پیدا کرو ، خدا تعالیٰ کے دین کے لیے اپنے وطنوں کو چھوڑنے کے لیے تیار رہو اور جہاد پر کمر بستہ رہو۔مگر یہ یا درکھو کہ ہر زمانہ میں جہاد کے طریق الگ الگ ہوتے ہیں۔جو ں اپنے زمانہ کے حالات کے مطابق دین کے جہاد میں حصہ لیتا ہے وہ انہی برکتوں سے حصہ پاتا ہے جن برکتوں سے پہلے لوگوں نے حصہ پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہی دیکھ لو آپ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ جہاد کے منکر ہیں اور اپنا مقام بہت بڑا بتاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے اس الزام کے جواب میں یہی لکھا ہے کہ میں جہاد کا منکر نہیں صرف اتنی بات ہے کہ میں اس وقت تلوار سے نہیں بلکہ قلم کی نوک سے جہاد کر رہا ہوں۔جہاد کی غرض یہی ہے کہ اسلام دنیا پر غالب آ جائے اگر کسی وقت قلم سے اسلام غالب آجاتا ہے تو قلم چلانے والا ہی مجاہد ہے۔چونکہ اس زمانہ میں دشمنانِ اسلام کی طرف سے تلوار سے نہیں بلکہ قلم سے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے اس لیے میں بھی تلوار سے نہیں بلکہ قلم کی نوک سے جہاد کر رہا ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے