خطبات محمود (جلد 36) — Page 4
1955ء 4 خطبات محمود جلد نمبر 36 جیسا کہ میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے افراد سے کہا تھا کہ وہ ہر سال کوئی ایک خُلق اختیار کرنے کا عہد کر لیا کریں۔ میں کہتا ہوں کہ تم اس سال یہ خلق اختیار کرو کہ تم محنت کا طریق اختیار کرو۔ اور اس کے ساتھ یہ یقین پیدا کرو کہ اگر تم محنت کرو گے تو لازماً اس کا اچھا نتیجہ نکلے گا۔ اور اگر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا تو تم کذاب ہو تم نے محنت کی ہی نہیں ورنہ کیا وجہ تھی کہ تمہاری محنت کا اچھا نتیجہ نہ نکلتا ۔ اگر تم اس نکتہ کو سمجھ لو تو تمہاری کا یا پلٹ جائے گی اور ہر سال تمہارے کاموں کا عظیم الشان نتیجہ نکلے گا ۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ کوئی محنت کرے اور پھر اس کے کام کا اچھا نتیجہ نہ نکلے ہمیں نظر آتا ہے کہ جس کسی نے بھی محنت کی ہے اس کی کایا پلٹ گئی ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم محنت کریں اور ہماری کایا نہ پلٹے ۔ بڑی مصیبت یہ ہے کہ جو ہمارے ذمہ دار کا رکن ہیں انہوں نے اخلاقی نقطہ نگاہ کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ مثلاً ناظر اعلیٰ ہیں ۔ ان کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ ماتحت نظارتوں کے کام کا معائنہ کریں ۔ لیکن عملاً انہوں نے گزشتہ چالیس سال میں ایک دفعہ بھی معائنہ نہیں کیا ۔ گویا یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ یہ فلاں جامع مسجد کے امام ہیں ۔ اور ان میں خوبی یہ ہے کہ گزشتہ پچاس برس میں انہوں نے ایک نماز بھی نہیں پڑھائی ۔ اب یہ بات کوئی بیوقوف ہی کہہ سکتا ہے۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں اگر تم پاگل خانہ میں بھی چلے جاؤ تو وہاں بھی کوئی یہ بات نہیں کہے گا ۔ لیکن ہمارے ہاں یہ بات کہیں گے کہ ناظر صاحب اعلیٰ نے پچھلے چالیس سال میں ایک دفعہ بھی ما تحت نظارتوں کا معائنہ نہیں کیا۔ حالانکہ ان کا سب سے بڑا کام یہی تھا۔ اگر وہ سال میں تین چار دفعہ بھی نظارتوں کا معائنہ کر لیتے تو ہم سمجھتے انہوں نے ایک حد تک اپنا کام کیا ہے ۔ اور پھر جب و وہ سال میں تین چار دفعہ معائنہ کرتے تو ممکن تھا کہ وہ صرف کاغذات ہی دیکھتے۔ لیکن اگر ان میں عقل ہوتی تو وہ یہ بحث کرتے کہ فلاں نظارت کا کام کیوں سست ہے ۔ کل ہی مجھے دیہاتی مبلغین ملنے آئے تو میں نے ناظر صاحب دعوت و تبلیغ سے کہا کہ مبلغین اپنی رپورٹ میں ملاقاتوں کے خانہ میں لکھتے ہیں کہ وہ عرصہ زیر رپورٹ میں فلاں فلاں سے ملے ہیں۔ لیکن اگر رپورٹوں کو دیکھا جائے تو ایک رپورٹ میں مثلاً احمد ، محمد ، اور خالد کے نام آتے ہیں ۔ دوسری رپورٹ میں نظام دین شمس دین اور جلال دین کے نام آجاتے ہیں۔