خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 128

$1955 128 خطبات محمود جلد نمبر 36 کے مقابلہ میں انگلستان میں بمباری سے صرف چند ہزار مکان ٹوٹا تھا مگر اب بھی وہ اُسی طرح گرانی پڑا ہے۔پھر ان کی ہمتیں ایسی بلند ہیں کہ ایک جرمن ڈاکٹر سے میں نے وقت مقرر کیا۔جب میں وہاں پہنچا تو وہ جگہ جو ہسپتال کی یونیورسٹی تھی وہاں بم گرنے کی وجہ سے اس مسجد کے برابر شگاف پڑے ہوئے تھے اور اندر صرف دو ٹوٹی ہوئی کرسیاں اور ایک رڈی سی چار پائی رکھی تھی اور اُنہی ٹوٹی ہوئی کرسیوں پر ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر کام کر رہے تھے۔میں جب گیا تو ایک ادنی سی کرسی پر انہوں نے مجھے بھی بٹھا دیا۔مگر اُن کے چہروں پر اس قدر بشاشت تھی کہ وہ رپورٹ پڑھتے جاتے اور ہنستے جاتے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا اُن کے ہاں کوئی شادی کی تقریب ہے۔جس ڈاکٹر نے میرا معائنہ کرنا تھا وہ اُس وقت ایک سو پینتیس میل دُور کسی اور مقام پر کسی ضروری آپریشن کے لیے گیا ہوا تھا۔اور چونکہ میرے ساتھ وقت مقرر تھا اس لیے وہ وہاں سے موٹر دوڑاتے ہوئے پہنچا اور کمرہ میں آتے ہی بغیر سانس لیے اُس نے میرا معائنہ شروع کر دیا۔اگر کوئی ہمارا آدمی ایسے موقع پر آتا تو وہ پہلے یہی کہتا کہ ”ساہ تے لین دیو" یعنی پہلے مجھے سانس تو لینے دو پھر میں معائنہ بھی کرتا ہوں۔مگر اُس نے بغیر سانس لئے میرا معائنہ شروع کر دیا اور پھر جب ہم نے اُسے فیس دینا چاہی تو اُس نے فیس لینے سے انکار کر دیا۔دوسری دفعہ ہم نے اُس کے سیکرٹری سے کہا کہ فیس لے لی جائے۔اُس نے فون کیا تو جرمن ڈاکٹر نے اُسے ڈانٹا اور کہا کہ میں ایک دفعہ جو کہہ چکا ہوں کہ میں نے فیس نہیں لینی !! اس کے بعد ہم نے اپنے جرمنی کے مبلغ سے کہا کہ تم اُسے جا کر کہو کہ ہم اتنی دور سے یہاں علاج کرانے کے لیے ہی آئے ہیں اس لیے آپ اپنی فیس لے لیں۔مگر اُس نے پھر یہی کہا کہ یہ مذہبی آدمی ہیں اس لیے میں نے ان سے فیس نہیں لینی۔پندرہ بیس منٹ اُس کے ساتھ جھگڑا رہا مگر اُس نے فیس نہیں لی۔غرض اُن کے اندر اِس قدر جوش پایا جاتا ہے اور اس قدر ہمت اور کام کرنے کی روح پائی جاتی ہے کہ ہر شخص کی حالت کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ یہ ارادہ کر کے بیٹھا ہے کہ وہ دنیا میں کچھ نہ کچھ کام کر کے رہے گا۔اُن کے مقابلہ میں ہمیں اپنے ملک کی حالت کا قیاس کرتے ہوئے شرم آتی ہے کہ وہ بھی ہمارے جیسے آدمی ہیں مگر ہماری محنت اور اُن کی محنت اور ہمارے کام