خطبات محمود (جلد 36) — Page 3
خطبات محمود جلد نمبر 36 3 $1955 ہیں اور لا زماً اس کا نتیجہ صفر نکلتا ہے تو اسکا الزام خدا تعالیٰ کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں اس کا موجب خدا ہے۔ہم نے تو اپنا پورا زور لگا دیا تھا۔نتیجہ نکالنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں تھا ہمارے اختیار میں نہیں تھا۔ہمارا مبلغ کلرک، آڈیٹر ، نائب وکیل ، نائب ناظر ، ناظر ، وکیل اور پھر ہمارے استاد، پروفیسر اور علماء سارے کے سارے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا پورا زور لگا دیا ہے اور مقدور بھر محنت کی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ہمارا بیڑا غرق کر دیا ہے۔گویا ان میں سے ہر ایک یہ سمجھتا ہے کہ ہر اچھا کام اس سے سرزد ہوتا ہے اور بیڑا غرق کرنا خدا تعالیٰ کے ذمہ ہے۔گویا جس ذات کو کسی زمانہ میں بیڑا تیرا نے والا کہا جاتا تھا اب ہم اپنی غفلت اور سستی پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے بیڑا غرق کرنے والا کہتے ہیں۔اور اگر وہ بیٹر ا غرق کرنے والا نہیں بلکہ بیڑا تیرا نے والا ہے تو بیڑا غرق ہم کرتے ہیں اور اپنی نادانیوں اور غفلتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اگر تم اس سال یہی نکتہ سمجھ لو کہ محنت اور قربانی کے بغیر دنیا میں کوئی کام نہیں ہوتا اور اگر واقع میں تم محنت اور قربانی کرو تو ناممکن ہے اس کا اعلیٰ نتیجہ پیدا نہ ہو۔تمہارے کسی کام کا اعلیٰ نتیجہ نہیں نکلتا تو تمہارا بیٹا خدا تعالیٰ نے غرق نہیں کیا تم نے خود کیا ہے۔اگر تم اس نکتہ کو سمجھ لو تو تمہاری کا یا پلٹ جائے۔اب ہمارا کارکن یہ کہتا ہے کہ میں نے تو اتنے گھنٹے کام کیا ہے۔نتیجہ نکالنا تو خدا تعالیٰ کا کام تھا میرا کام نہیں تھا۔لیکن اگر وہ 6 گھنٹے کی بجائے 8 یا 9 گھنٹے بھی بیٹھتا ہے اور اپنا وقت سستی اور غفلت میں ضائع کر دیتا ہے تو اُس کا کیا کی فائدہ ؟ اس طرح اگر وہ پچاس گھنٹے بھی بیٹھے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔پھر ا کثر کا رکن تو ایسے ہوتے ہیں جو کام کرتے ہی نہیں۔پھر ہمارے دفاتر میں چھٹیوں کا سلسلہ اس قسم کا چلا جاتا ہے کہ ہماری چھٹیاں گورنمنٹ کی چھٹیوں سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔اب میں نے اس بارہ میں سختی شروع کی ہے تو چھٹیوں کا رجحان ایک حد تک کم ہو گیا ہے۔لیکن پہلے یہ دستور تھا کہ ہمارے دفاتر میں چھٹیاں ہی چھٹیاں ہوتی تھیں چنانچہ جمعہ کی چھٹی کے علاوہ سال میں 80, 90 چھٹیاں ہو جاتی تھیں۔اب بھی سارے پاکستان میں سال بھر میں چھ چھٹیاں ہوتی ہیں۔تو ہمارے ہاں دس چھٹیاں ہوتی ہیں۔حالانکہ تاجر اپنا کام کرتا ہے اور کوئی چھٹی نہیں کرتا۔کارخانہ دار اپنا روزانہ کام کرتا ہے اور کوئی چھٹی نہیں کرتا۔پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کوئی ایک چیز اختیار کر لیں۔