خطبات محمود (جلد 36) — Page 109
1955ء 109 خطبات محمود جلد نمبر 36 اس لیے اُن کے کسی وقت الگ الگ ہونے کا بھی امکان نہیں پیدا ہوتا ۔ پھر نیچر کا قانون دیکھو انسان کے بچے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اُس نے مرنا ہے۔ پہاڑ کے بچے پیدا نہیں ہوتے کیونکہ وہ ایک ہی حالت میں کھڑا رہتا ہے ۔ انسان مرتا ہے اسی لئے اُس کا قائم مقام پیدا ہوتا ہے۔ پس جو چیز فنا ہوتی ہے وہی مرکب ہوتی ہے ۔ خدا مفرد ہے اس لئے اُس پر فنا نہیں آتی نا۔ تو یہ سورۃ فی الواقع قرآن کریم کا تیسرا حصہ ہے کیونکہ اس میں اُن عقائد کی تردید ہے جو قرآن کے مضامین کا تیسرا حصہ ہیں اور یہ عقائد عیسائیوں کے ہیں جو کہتے ہیں کہ ابتدا میں کلام تھا اور کلام سے سب دنیا پیدا ہوئی۔ گویا یہ صفت ابتدا میں ہی الگ وجود رکھتی تھی ۔ ۔ اِ اس طرح اس سے فلسفہ کی بھی تردید ہو جاتی ہے۔ فلسفیوں نے بھی خدا کی ذات وصفات کی قدامت کے بارے میں بہت بحث کی ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں میں وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کا جو مسئلہ ہے اس کی بھی اس سے تردید ہو جاتی ہے۔ قُلْ هُوَ اللهُه اَحَدٌ نے ان سب کی تردید کر دی ہے اور بتا دیا کہ تمہاری ساری باتیں غلط ہیں اور احد اور صمد تمہارے ان خیالات کو برداشت نہیں کر سکتا ۔ اس لیے فی الواقع یہ سورة ثلث القرآن ہے کیونکہ اس نے عیسائیت کی جس سے اسلام نے سب سے زیادہ اور سب سے لمبی ٹکر لینی ہے اور جو اس وقت دنیا کا ایک غالب مذہب سمجھا جاتا ہے تردید کر دی ہے ۔ بلکہ اگر اس سورۃ کو ان معنوں کے لحاظ سے جو میں نے کئے ہیں سارے قرآن کا خلاصہ کہا جائے تب بھی درست ہے۔ کیونکہ حق کو قائم کرنا اور باطل کو مٹانا ہی قرآن کا اصل مقصد ہے۔ جس کو اس چھوٹی سی سورۃ نے خلاصے کے طور پر بیان کر دیا ہے ۔“ )الفضل 14 ستمبر 1955ء( 1 جامع الترمذى ابواب فضائل القرآن باب ماجاء في سورة البقرة و آية الكرسى 2 الصحيح البخارى كتاب فضائل القرآن باب فضل ” قل هو الله أحد 3 الاخلاص : 2 4 یوحنا باب 1 آیت 1 تا 4 ( مفہوما )