خطبات محمود (جلد 36) — Page 41
$1955 41 خطبات محمود جلد نمبر 36 سنا دو۔اس طرح فائدہ زیادہ ہوتا ہے۔پڑھنے والا محسوس کرتا ہے کہ میں اسے کتاب سنا رہا ہوں اور اس طرح وہ خود بھی استفادہ کرتا ہے۔اس ترکیب سے آسانی سے دوسروں تک حق پہنچایا جا سکتا ہے۔قبولیت کا سوال الگ ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو آزاد بنایا ہے۔اُسے مجبور کرنے کا ہمیں حق حاصل نہیں۔اگر سچائی سن لینے کے بعد کوئی ہمیں جھوٹا سمجھتا ہے تو یہ اُس کا حق ہے وہ ایسا کر سکتا ہے۔لیکن حق کو جاننے کے بغیر کوئی ہمیں جھوٹا کہے تو اُس کی غلط فہمی کا ازالہ کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ورنہ ہم خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم ہوں گے۔لیکن بات سمجھا دینے کے باوجود کوئی ہمیں جھوٹا کہے تو کوئی حرج نہیں۔وہ ہمیں جھوٹا کہنے کے باوجود ہمارا بھائی ہے۔وہ اپنے عقیدہ پر عمل کرتا ہے اور ہم اپنے عقائد کے مطابق چلتے ہیں۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا ” نماز کے بعد میں کچھ جنازے پڑھاؤں گا۔1۔والد صاحب میجر محمد حیات صاحب تو نسه 2۔آفتاب جہاں بیگم صاحبہ لالوکھیت کراچی جنازہ میں بہت کم آدمی شریک ہوئے۔3۔قریشی محمد جان صاحب امرتسری اوکاڑہ ضلع منٹگمری۔جوانی کے زمانہ سے میں انہیں جانتا ہوں مخلص احمدی تھے۔4۔والدہ صاحبہ شرف دین صاحب را جن پور ضلع ڈیرہ غازی خان تحصیل چشتیاں بہاولپور میں فوت ہوئی ہیں۔بیٹوں میں سے کوئی بھی جنازہ میں شامل ہونے کے لئے نہ پہنچ سکا۔5۔چودھری عبدالرحمن صاحب قادیان کے رہنے والے تھے۔ہمارے خاندان میں نمبرداری تھی مرزا عزیز احمد صاحب نے انہیں سربراہ بنایا ہوا تھا۔6۔سلطان بی بی صاحبہ زوجہ چودھری غلام نبی صاحب دیہہ 151 تعلقہ ڈگری سندھ۔تمام متعلقین غیر احمدی ہیں۔جنازہ میں صرف چند احمدی شریک ہوئے۔7۔روشن بی بی صاحبہ والدہ نظام دین صاحب چک جمال ضلع جہلم۔نماز جنازہ میں بہت کم دوست شامل ہوئے۔