خطبات محمود (جلد 36) — Page 22
$1955 22 خطبات محمود جلد نمبر 36 ان میں کام کی وہ قابلیت نہیں جو ہونی چاہیے۔مگر بہر حال باہر کی جماعتوں پر بھی اس کی بہت سی ذمہ داری ہے اس لئے کہ وعدوں کے بھجوانے کا وقت ختم ہونے کے قریب آ گیا ہے۔پس میں پھر ایک بار جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور جلد سے جلد وعدے لے کر مرکز میں بھجوائیں۔بعض جماعتوں کے متعلق تو میری سمجھ میں نہیں آیا کہ ان کی کی سستی اور غفلت کی وجہ کیا ہے۔مثلاً کراچی کی جماعت ہے۔پہلے وہ ہمیشہ وعدے بھجوانے میں پست رہی ہے۔اس سال اعلان کے بعد بھی وعدے لینے کی کوشش کرتی رہی ہے اور یہاں جلسہ سالانہ پر آ کر بھی انہوں نے کافی تگ و دو کی اور ملاقات کے موقع پر انہوں نے بتایا کہ بارہ ہزار روپیہ کے مزید وعدے لئے گئے ہیں لیکن دفتر بتاتا ہے کہ باوجود اس کے کہ انہیں خط بھی لکھا گیا ہے انہوں نے ایک مہینہ سے فہرست نہیں بھجوائی۔جماعت کا خیال تھا کہ جماعت کراچی کے اس سال کے وعدے گزشتہ سال سے زیادہ ہوں گے لیکن ابھی وہ گزشتہ سال کے نصف پر رُکے ہوئے ہیں اور اتنی دیر کے بعد بھی انہوں نے کوئی اطلاع نہیں دی۔ان کا انتظام بھی نیا ہے۔پرانے سیکرٹری ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور نئے سیکرٹری صاحب معلوم ہوتا ہے پورے تجربہ کار نہیں۔نہ دفتر کی خط و کتابت کا کوئی اثر ہوا ہے نہ وقت کی نزاکت کا۔انسانی طبائع دو قسم کی ہوتی ہیں۔بعض لوگ چھوٹی سی تنبیہ پر ہوشیار ہو جاتے ہیں۔اور بعض کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں کہنے دو ہم نے تو اپنی کی مرضی کے مطابق ہی کام کرنا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کراچی کے نئے سیکرٹری صاحب انہی لوگوں میں سے ہیں جن میں یہ حس ہی نہیں کہ ان سے کیا مانگا جاتا ہے یا ان سے کیا سوال کیا جاتا ہے اور انہیں کیا جواب دینا چاہیے۔چونکہ جماعت کراچی گزشتہ سالوں میں ایک نمونہ رہی ہے اس کی لئے میں نے خاص طور پر اس کا ذکر کیا ہے۔ورنہ لا ہور باوجود اپنے جواں سال امیر کے بہت ہی پیچھے ہے۔اسی طرح اور کئی جماعتیں ہیں۔بہر حال اس سال جماعت نے وعدے بھجوانے میں بہت سستی سے کام لیا ہے۔لیکن جہاں تک ہم دیکھتے ہیں جماعت کے اخلاص میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔بلکہ جماعت اخلاص میں روز بروز ترقی کر رہی ہے اور جب بھی اسے کسی کام کے لئے بیدار کیا جائے اس کے افراد بیدار ہو جاتے ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جو بھی خرابی ہوتی ہے وہ یا تو مرکزی دفتر کے عملہ سے ہوتی ہے