خطبات محمود (جلد 36) — Page 260
$1955 260 خطبات محمود جلد نمبر 36 بتایا کہ یہ دوست بہت غریب ہیں لیکن حضور سے انہیں بہت محبت ہے۔جب آپ کا چہرہ مبارک دیکھے کچھ عرصہ ہو گیا تو یہ بے چین ہو گئے اور گجرات سے پیدل چل کر لاہور یا امرتسر آگئے اور وہاں سے بغیر ٹکٹ خریدے ریل پر بیٹھ گئے اور یہاں آگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ ریل کا کرایہ کس قدر تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ ایک روپیہ۔اس پر آپ نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔آپ نقدی رو مال میں باندھ کر جیب میں رکھا کرتے تھے۔آپ نے اُس میں سے ایک روپیہ نکال کر اُسے دیا اور فرمایا یہ روپیہ میری طرف سے تحفہ ہے۔واپس جاتے ہوئے آپ ریل میں ٹکٹ لے کر بیٹھیں اور یا درکھیں کہ جس طرح پبلک کوٹوٹنا گناہ ہے ویسے ہی ریلوے کے محکمہ کو لوٹنا بھی گناہ ہے۔آخر ریل والوں نے ملازم رکھے ہوئے ہیں، انہیں تنخواہیں دیتے ہیں، پھر گاڑیوں کی مرمت بھی کرواتے ہیں۔اگر لوگ کرایہ ادا نہ کریں گے تو وہ خرچ کہاں سے کریں گے۔اسی طرح میونسپل کمیٹی کے حقوق مارنا بھی خود اپنے آپ کو مارنا ہے۔تم خیال تو کرو کہ اگر تمہیں نزلہ، زکام یا بخار ہو جاتا ہے تو اس سے میونسپل کمیٹی کو کیا نقصان پہنچتا ہے۔مثلاً تمہارے بچہ کو نزلہ ہوا تو تم بازار میں گئے اور آٹھ آنے کے جوشاندے خرید لائے۔ہسپتال سے دو آنے کی خوراک لے آئے۔اور اگر اُس پر اعتبار نہ آیا تو کسی کمپونڈ ر کو گھر بلا لائے اور اُس کو دو روپے فیس دے دی اور دو روپے کی دوائیں لے آئے۔میونسپل کمیٹی کو تو شاید تمہیں ایک ہی روپیہ دینا پڑتا لیکن اس طرح تمہیں کئی روپے دینے پڑے۔پس میونسپل کمیٹی کے حقوق مارنے سے خود اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔میں اس خطبہ کے ذریعہ میونسپل کمیٹی ربوہ سے بھی کہتا ہوں کہ وہ شہر کی صفائی کا انتظام کرے اور گھروں میں پانی مہیا کرے تا درخت وغیرہ لگائے جاسکیں۔اور سٹرکوں کو رولر کے ذریعہ پختہ بنائے۔اور پبلک سے میں کہتا ہوں کہ وہ میونسپل کمیٹی کے ٹیکس پورے ادا کرے۔یہ ٹیکس انہیں مہنگے نہیں پڑیں گے بلکہ سستے پڑیں گے۔کیونکہ ان کا فائدہ کسی دوسری شکل میں کوٹ کر ان کے پاس آئے گا۔ان کا فائدہ کوٹ کر آئے گا تمہاری صحت کی شکل میں ، ان کا فائدہ کو کر آئے گا تمہارے بیوی بچوں کی صحت کی شکل میں ، ان کا فائدہ کوٹ کر آئے گا شہر کی خوبصورتی