خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 233

$1955 233 خطبات محمود جلد نمبر 36 اُس سے ہر وقت دعائیں کرتے رہو کہ وہ خود تمہاری حفاظت اور نصرت فرمائے۔وہ خدا جو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک اپنی قائم کردہ جماعتوں کے لیے غیر معمولی سامان پیدا کرتا چلا آیا ہے۔وہ اب بھی اس بات پر قادر ہے کہ ہمارے لیے غیر معمولی سامان پیدا کر دے۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تم ان تمام صلحاء کے نقش قدم پر چلو جو آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک گزرے ہیں۔پھر تم دیکھو گے کہ جو کام تم نہیں کر سکو گے وہ خدا تعالیٰ خود کر دے گا۔مثلاً دیکھ لوتم پاسپورٹ کے بغیر ہندوستان نہیں جاسکتے اور پھر تمہارے پاسپورٹ ایک عرصہ تک تیار بھی نہیں ہوتے۔اسی طرح تمہیں ویزا لینے میں کئی مشکلات پیش آجاتی ہیں۔لیکن اگر خدا تعالیٰ ہندوستان کی جانا چاہے تو اُس کے لیے کس پاسپورٹ اور ویزا کی ضرورت ہے۔وہ اگر ہندوستان کے ہندوؤں اور سکھوں کے دلوں پر اُترے اور وہ مسلمان ہو جائیں تو پھر تمہیں کسی فکر کی ضرورت نہیں۔وہ لوگ خود قادیان کو آباد کر لیں گے۔میں نے جماعتوں کو بار ہا اِس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی تعداد کو بڑھانے کی طرف توجہ کریں تا کہ ہماری آمد زیادہ ہو۔میں نے خلیل احمد ناصر مبلغ امریکہ کو بھی یہ ہدایت دے کر بھجوایا ہے کہ ایسے طریق اختیار کرو کہ امریکہ کی جماعت مضبوط ہو جائے اور اُس کا چندہ بڑھ جائے۔اگر انہیں خدا تعالیٰ توفیق دے دے تو بہت سی مشکلات دور ہوسکتی ہیں۔ان کی سکیم یہ ہے کہ امریکہ میں بعض احمدی گاؤں بسائے جائیں۔اگر اس سکیم میں وہ کامیاب ہو جائیں اور چند احمدی گاؤں وہاں آباد ہو جائیں تو ہمارے بجٹ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادتی ہو سکتی ہے۔لیکن ابتدا میں اس کے لیے انہیں محنت کرنی پڑے گی۔اس وقت ایک ڈالر کی قیمت پونے چار روپیہ کے قریب ہے۔اگر امریکہ کی جماعت کا بجٹ ایک لاکھ ڈالر سالا نہ ہو جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اُن کا سالانہ بجٹ پانچ لاکھ پاکستانی روپے کے برابر ہو جاتا ہے۔اور اگر دو لاکھ ڈالر سالانہ بجٹ ہو تو اُن کا سالانہ بجٹ دس لاکھ پاکستانی روپیہ کے برابر ہو جاتا ہے۔اور وہ بڑی آسانی کے ساتھ یورپ اور افریقہ وغیرہ کے مشنوں کو چلا سکتے ہیں بلکہ کچھ روپیہ پھر بھی بچ جاتا ہے جور بوہ اور قادیان کے لوگوں کی امداد کے لیے وہ بھجوا سکتے ہیں۔پس دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ پر توکل رکھو۔گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔اگر تم اپنے