خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 165

$1955 165 خطبات محمود جلد نمبر 36 میں پیچھے رہ جاتا اور وہ مضمون کا ترجمہ کر کے لے آتے۔حالانکہ میں خود اتنا ز ودنو لیس تھا کہ بعض دفعہ ایک ایک دن میں پوری کتاب لکھ دیتا۔اُن دنوں مسجد مبارک کے نچلے کمرے میں بیٹھ کر میں کام کیا کرتا تھا۔ایک دن بیٹھا مضمون لکھ رہا تھا کہ کسی نے دروازہ پر دستک دی۔میں نے پوچھا تو پتا لگا کہ ماسٹر عبد الحق صاحب آئے ہیں۔میں نے کہا آپ کس طرح آئے ہیں؟ کہنے لگے مضمون دیجئے۔میں نے کہا ابھی تھوڑی دیر ہوئی میں آپ کو مضمون بھجوا چکا ہوں۔کہنے لگے اُس کا ترجمہ تو میں ختم بھی کر چکا ہوں۔اب مجھے آگے مضمون دیجئے۔میں نے کہا میرے پاس تو ابھی مضمون تیار نہیں۔کہنے لگے خیر میں اپنا کام ختم کر چکا ہوں آپ مضمون لکھ لیں تو مجھے بھجوا دیں۔بہر حال جب مضمون تیار ہو گیا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ یہ پارہ ہم اپنے خاندان کی طرف سے چھپوا دیں مگر اس کے لیے روپیہ کی ضرورت تھی۔ہمارا اندازہ یہ تھا کہ اس کے لیے چار ہزار روپیہ کی ضرورت ہوگی۔آخر سوچ سوچ کر میں نے یہ تجویز نکالی کہ ہم اپنی جائیداد کا کچھ حصہ بیچ دیتے ہیں۔اس ذریعہ سے جو آمد ہوگی وہ قرآن کریم کے چھپوانے پر خرچ کر دی جائے گی۔میں نے اپنے بھائیوں سے مشورہ لیا تو انہوں نے کہا ہماری طرف سے زمین بیچنے کی اجازت ہے۔مگر اب میں ڈروں کہ چار ہزار روپیہ آ بھی سکتا ہے یا نہیں ؟ میں نے اُسی دوست کو بلوایا اور کہا کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ قرآن کریم ہمارے خاندان کے خرچ پر شائع ہو۔کیا اس کے لیے چار ہزار رو پیدا کٹھا ہو سکتا ہے؟ کہنے لگے آپ کہیں تو ہیں ہزار روپیہ بھی اکٹھا ہوسکتا ہے۔میں نے کہا میں ہزار نہیں صرف چار ہزار روپیہ چاہیے۔جب میں نے یہ بات کہی اُس وقت کوئی گیارہ بجے ہوں گے۔میں نے اُن سے پوچھا کہ یہ روپیہ کب تک اکٹھا ہو سکتا ہے؟ کہنے لگے ظہر تک لا دوں گا۔یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ظہر کی نماز پڑھا کر میں الفضل کے دفتر میں گیا تو انہوں نے چار ہزار روپیہ کی تھیلی میری سامنے لا کر رکھ دی۔اور کہا ابھی اور بہت سے گاہک موجود ہیں اگر آپ کہیں تو ہمیں چھپیں ہزار روپیہ بھی آسکتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ دینے پر آتا ہے تو اس طرح دیتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔پس مت سوچو کہ تمہاری اولادیں کیا کھائیں گی اور کہاں سے ان کے لیے رزق آئے گا۔ہمیں تو یہ فکر رہتی ہے کہ ہمیں جو کچھ خدا نے دیا ہے یہ ہماری اولادوں کی تباہی کا موجب نہ