خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 156

خطبات محمود جلد نمبر 36 156 $1955 اسی طرح حکیم فضل الرحمن صاحب جو حال ہی میں میرے پیچھے فوت ہوئے وہ شادی کے تھوڑے عرصہ بعد ہی مغربی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لیے چلے گئے اور تیرہ چودہ سال تک باہر رہے۔جب وہ واپس آئے تو اُن کی بیوی کے بال سفید ہو چکے تھے اور اُن کے بچے جوان ہو چکے تھے۔میں یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ آج جمعہ کے بعد میں حکیم فضل الرحمن صاحب ، مولوی عبد المغنی خان صاحب اور ماسٹر محمد حسن صاحب آسان کی نماز جنازہ پڑھوں گا۔مولوی عبد المغنی خان صاحب بھی اُن لوگوں میں سے تھے جنہوں نے ابتدائی زمانہ میں اپنی زندگی وقف کی۔وہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں قادیان میں ہجرت کر کے آگئے اور پھر وفات تک مرکز میں ہی رہے۔اور سلسلہ کے مختلف عہدوں پر نہایت اخلاص اور محبت کے ساتھ کام کرتے رہے۔پھر ماسٹر محمد حسن صاحب آسان بھی میرے پیچھے فوت ہوئے ہیں۔ان کا ایک بیٹا مولود احمد اس وقت لندن مشن کا انچارج ہے۔میں نے جب وقف کی تحریک کی تو گوسینکڑوں مالدار ہماری جماعت میں موجود تھے مگر ان کو یہ توفیق نہ ملی کہ وہ اپنی اولا د کو خدمت دین کے لیے وقف کریں۔لیکن ماسٹر محمد حسن صاحب آسان نے اپنے چارلڑ کے اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دئیے۔جن میں سے دو بیٹے اُن کی وفات کے وقت پاکستان سے باہر تھے۔ان میں سے ایک ویسٹ افریقہ میں وائس پرنسپل ہے اور ایک لندن مشن کا انچارج اور انگلستان میں ہمارا مبلغ ہے۔ان کے سات بچے تھے اور وہ غریب آدمی تھے انہوں نے اپنے خرچ پر انہیں گریجوایٹ کرایا اور پھر سات میں سے چار کو وقف کر دیا۔ان میں سے ایک الفضل کا ایڈیٹر ہے۔ایک لندن مشن کا انچارج ہے۔ایک ویسٹ افریقہ میں وائس پرنسپل ہے اور ایک کراچی میں تحریک جدید کی تجارت کا انچارج ہے۔ان سارے لڑکوں کو انہوں نے بی اے یا ایم اے اپنے خرچ پر کرایا۔سلسلہ سے انہوں نے کوئی رقم نہیں لی۔انہیں یہ کبھی خیال نہ آیا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں اگر میرے بیٹے پڑھ کر اعلیٰ ملازمتیں حاصل کر لیں تو ہمارے خاندان کا نام روشن ہو جائے گا۔انہوں نے روشنی صرف اسلام میں دیکھی اور اپنے لڑکوں کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔غرض ہماری جماعت میں ایسی مثالیں تو موجود ہیں جو جماعت کی عزت کو قائم رکھنے والی