خطبات محمود (جلد 35) — Page 79
$1954 79 خطبات محمود اور جماعت اپنے پہلے مقام کو پھر حاصل کر لے گی۔اس وقت جماعتوں میں سے کراچی کی جماعت اول نمبر پر ہے۔اُن کی تنظیم زیادہ اچھی ہے، اُن کے عہدیدار زیادہ ہوشیار ہیں اور اُن کی قربانیاں نمایاں ہیں۔ضرورت پر فوراً اکٹھے ہو جانا اور آپس میں مشورہ کرنا اُن میں لاہور والوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ چیز ایسی ہے جس میں لاہور کی جماعت کو مسابقت کی روح اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کراچی نہیں گئے لیکن لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کئی دفعہ آئے اور آپ نے اپنی عمر کا ایک حصہ یہیں گزارا اور پھر آپ نے 1908ء میں وفات بھی یہیں پائی ہے۔اس وجہ سے تمہیں ایک خاص مقام اور اعزاز حاصل ہے۔مگر تم نے تو خود بخود اپنی مونچھیں نیچی کر لیں۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ کوئی پٹھان تھا جو سارا دن بازار میں اور سڑکوں پر تلوار لیے پھرتا رہتا۔اُس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں اور اُس کا دعوی تھا کہ میں سب سے بہادر ہوں اور میرے مقابلہ میں اور کسی کو مونچھیں رکھنے کا حق نہیں۔چنانچہ جہاں بھی وہ کسی کی بڑی بڑی مونچھیں دیکھتا تو فوراً تلوار لے کر اُس کے پاس پہنچتا اور کہتا کہ یا تو ھ کٹوا دو ورنہ تمہاری گردن اُڑا دوں گا۔تمہارا کیا حق ہے کہ میرے مقابلہ میں موچھیں کھو۔آخر لوگ سخت تنگ آ گئے۔ایک ہوشیار آدمی نے جب دیکھا کہ سارے شہر پر آفت آ پڑی ہے تو وہ کام کاج چھوڑ کر گھر میں بیٹھ گیا اور اس نے خوب تیل مل مل کر اپنی مونچھیں بڑھانی شروع کر دیں۔جب مونچھیں خوب پھیل گئیں اور اُس پٹھان کی مونچھوں سے بھی زیادہ شاندار ہو گئیں تو وہ تلوار ہاتھ میں لے کر باہر نکل آیا اور اُس نے وہیں ٹہلنا شروع کر دیا جہاں وہ پٹھان شہلا کرتا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد خان صاحب آگئے۔انہوں نے جب دیکھا کہ ایک اور شخص بڑی بڑی مونچھوں والا تلوار لے کر پھر رہا ہے تو وہ غصہ سے اُس کی طرف بڑھے اور پوچھا تم کون ہو؟ اس نے کہا ہم جو ہیں سو ہیں تمہیں اس سے کیا؟ اُس نے کہا تم نے مونچھیں کیوں بڑھا رکھی ہیں؟ وہ کہنے لگا کیا مونچھیں بڑھانا تمہارے باپ کا حق ہے؟ پٹھان نے کہا ہم نہیں جانتے۔یا تو تمہیں مونچھیں نیچی کرنی پڑیں گی یا گردن کٹوانی پڑے گی۔اس نے کہا اگر تمہیں تلوار چلانی آتی ہے تو ہمیں بھی آتی ہے۔پٹھان کو غصہ تو چڑھا ہی ہوا تھا اُس نے کہا