خطبات محمود (جلد 35) — Page 67
$1954 67 خطبات محمود اس کے کہ کوئی بالکل مُردہ ہو جائے اور ایسا شاذ ہوتا ہے۔عام طور پر جب لذت پیدا ہو جاتی ہے تو انسان کے اندر یہ خواہش پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوبارہ اس میں حصہ لے اور بڑھ چڑھ کر لے۔میں ایک دفعہ دہلی گیا۔چودھری ظفر اللہ خاں اُس وقت تک وزیر نہیں بنے تھے۔ویسے وہ ایک خاص مقدمہ کی پیروی کے لیے مامور تھے۔اُن دنوں ہندوستان کی حکومت نے انگلستان سے مالیات کے ایک ماہر کو منگوایا تھا تا کہ بعض اہم باتوں میں اس کا مشورہ لے۔چودھری صاحب نے اسے مجھ سے ملانے کے لیے دعوت دی۔گلاب جامن یا رس گلے رکھے تھے۔اس شخص کے لیے یہ ایک نئی چیز تھی۔وہ انہیں دیکھ کر گھبرایا۔چودھری صاحب نے اُسے کہا اسے کھا کر دیکھو۔چنانچہ اس نے ایک گلاب جامن یا رس گلہ اُٹھا کر کھایا۔چودھری صاحب نے پھر ایک گلاب جامن یا رس گلہ اُسے دیا تو اُس نے پھر گریز کیا۔تو چودھری صاحب نے اُسے کہا تم نے پہلا گلاب جامن یا رس گلہ تو عجوبہ کے طور پر کھایا تھا۔اب دوسرا گلاب جامن یا رس گلہ اس کے مزے کی وجہ سے کھاؤ۔میں نے پوچھا۔چودھری صاحب! آپ نے یہ کیا کہا ؟ تو انہوں نے بتایا انگریزی میں یہ محاورہ ہے کہ پہلی چیز تو عجوبہ کے لیے ہوتی ہے اور دوسری چیز اس کے مزے کی وجہ سے ہوتی ہے۔یہ ایک ضرب المثل ہے لیکن میں نے روحانیات میں بھی دیکھا ہے کہ پہلے چسکا لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔پھر خود بخود عادت پڑ جاتی ہے۔دنیا میں بھی دیکھ لو لوگ شراب پیتے ہیں۔ٹنکچر جس کے استعمال سے تم گریز کرتے ہو ، بچوں کو دیتے ہو تو وہ ناک منہ چڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کڑوی چیز ہے ہم نہیں لیتے۔اس میں الکحل یعنی شراب ہی کا جزو ہوتا ہے۔جوان لوگ بھی اس سے نفرت کرتے ہیں لیکن یورپ میں لوگ شراب مزے لے لے کر پیتے ہیں اور روکنے کے بعد بھی اسے نہیں چھوڑتے۔پس ہر چیز کے دو مزے ہوتے ہیں۔ایک تو اُس کا ذاتی مزا ہوتا ہے اور دوسرا مزا عادت کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ہمارے ملک میں لوگ زردہ کا استعمال کرتے ہیں لیکن جس نے پہلے زردہ استعمال نہ کیا ہو وہ اگر زردہ کھالے تو اُس کے سر میں چکر آنے لگتے ہیں۔ایک دفعہ مجھے نقرس کی تکلیف ہوئی۔ایک دوست ہندوستان کے تھے انہوں نے کہا آپ پان میں