خطبات محمود (جلد 35) — Page 61
خطبات محمود 61 $1954 اور میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔سینکڑوں آدمی کی ایسے ہیں جو جماعت کے وظائف سے پڑھ کر انٹرنس تک تعلیم حاصل کر چکے ہیں یا وہ بی۔اے یا ایم۔اے ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی وہ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ جماعت نے ان کی پوری مدد نہیں کی۔انہیں یہ کبھی خیال نہیں آتا کہ جن لوگوں نے انہیں مدد دی ہے اُن کی حالت بھی اُن جیسی ہی ہے۔کئی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے چندے دیئے اور اس مالی بوجھ کو برداشت کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم خراب کر لی۔اور پھر اگر وہ اپنے خرچ پر پڑھتا تو شاید انٹرنس پاس کر لیتا یا ایف۔اے کر لیتا لیکن جماعت کی مدد سے اُس نے بی۔اے یا ایم۔اے پاس کر لیا ہے۔مگر بجائے اس کے کہ وہ احسان مند ہو اور یہ ارادہ کر لے کہ اب وہ دوسروں کو تعلیم کے سلسلہ میں مالی مدد دے گا وہ جماعت سے اس بات کا شکوہ کرتا ہے کہ اس نے پوری کی طرح اُس کی مدد نہیں کی۔دوسرے ملکوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی۔جماعتیں اور سوسائیٹیاں تو الگ رہیں وہ لوگ ماں باپ سے بھی مدد نہیں لیتے۔ایک دفعہ چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے مجھے ایک قصہ سنایا۔جب وہ پہلی دفعہ امریکہ گئے اُس وقت وہ وزیر نہیں ہوئے تھے۔اب تو اُن کی تقریروں اور خدمات کی وجہ سے ایک خاص اثر قائم ہو چکا ہے لیکن جب وہ نئے نئے امریکہ گئے تھے تو اُس وقت ہمارے مبلغوں کی امداد بھی ان کے لیے بڑی کارآمد ہوتی تھی۔ایک دن انہوں نے سیر کے لیے باہر جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے مبلغ سے کہا کہ وہ انہیں کوئی ایسا آدمی دے جو سیر کرا دے۔کی چنانچہ مبلغ نے انہیں چودہ پندرہ سال کا ایک لڑکا دیا اور کہا کہ یہ ہوشیار لڑکا ہے، یہ آپ کو سیر کرا دے گا۔وہ لڑکا چودہ پندرہ سال کا تھا یا سولہ سترہ سال کا۔بہر حال اُس کی عمر تعلیمی تھی۔چودھری صاحب نے بتایا کہ اُس لڑکے کی باتوں سے پتا لگتا تھا کہ وہ نوکری کرتا ہے اور اُس کی کی باتوں سے یہ بھی پتا لگتا تھا کہ اُس کا باپ اچھا مالدار ہے۔چودھری صاحب نے بتایا کہ میں نے اُس لڑکے سے کہا میاں! تمہارا باپ مالدار ہے وہ تمہیں تعلیم کیوں نہیں دلاتا ؟ اس پر مجھے یوں محسوس ہوا کہ گویا اُس کی ہتک ہو گئی ہے اور وہ بڑے جوش سے کہنے لگا میں کسی کی مدد کیوں لوں؟ میرا باپ اپنی محنت سے بڑا بنا ہے، میں بھی اپنی محنت سے بڑا بنوں گا۔