خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 406

$1954 406 خطبات محمود مولوی نورالدین صاحب کی طرف دیکھا اور کہا کیا آپ نے انہیں حلوا نہیں کھلایا تھا؟ اس پر مولوی نورالدین صاحب نے کہا میں نے حلوا بھیجا تو تھا۔شاید انہوں نے نہیں کھایا۔اُس مجلس میں ایک غیر احمدی وکیل بھی بیٹھے تھے۔وہ حضرت خلیفتہ اسی الاول کے پاس علاج کے لیے آئے تھے اور قادیان میں انہیں چند دن رہنے کا موقع مل چکا تھا۔وہ یہ سنتے ہی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے مولوی صاحب! اتنا جھوٹ ! میں خود قادیان رہ آیا ہوں۔میرے پاس تو اس قسم کا جادو والا حلوا نہیں لایا گیا تھا۔تو پھر اب تک تو قادیان کی گلیوں اور سڑکوں کا یہ حال ہے کہ اکا بھی اچھی طرح نہیں چل سکتا فٹن کہاں سے آ گئی؟ اب وہ وکیل احمدی نہیں تھے لیکن ان کی باتوں سے لوگوں کو یقین ہو گیا کہ مولوی جھوٹ بول رہا ہے۔غرض دوسرے لوگوں کو مرکز میں لانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔تم زیادہ سے زیادہ انہیں یہاں لاؤ اور علمی مجالس میں بٹھاؤ اور جو شکوک اُن کے دل میں ہوں اُن کا علماء سے ازالہ کراؤ۔گھروں میں جہاں خیالات اور عقائد کا اختلاف ہوتا ہے ہمیشہ جھگڑا رہتا ہے۔اگر بیوی کا اور طریق ہے اور مرد کا اور طریق ہے تو گھریلو زندگی میں اُن کا کچھ نہ کچھ اختلاف ضرور رہے گا۔اگر ایسا ہو جائے کہ میاں اور بیوی آپس میں ملنے لگ جائیں، بھائی بھائی آپس میں ملنے لگ جائیں، باپ اور بیٹا آپس میں ملنے لگ جائیں، نخسر اور داماد آپس میں ملنے لگ جائیں اور ہمسائے، ہمسائے آپس میں ملنے لگ جائیں تو کتنی اچھی بات ہو جائے اور گھر یلو زندگی کتنی خوشگوار ہو جائے۔پس تم انہیں یہاں لاؤ۔یہاں وہ آزاد ہیں جو چاہیں سنیں اور پھر اپنے دل میں فیصلہ کریں کہ یہ درست ہے یا نہیں۔اس کے بعد یا وہ تمہیں اپنے ساتھ ملا لیں گے یا خود تمہارے ساتھ مل جائیں گے۔پس اول تو تم وقتا فوقتا مرکز میں آتے ہو لیکن اگر تمہیں بار بار آنے کی توفیق نہیں تو جلسہ سالانہ پر مرکز میں ضرور آؤ اور اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور شریک کار لوگوں اور ہمسایوں کو بھی اپنے ساتھ لانے کی کوشش کرو۔ممکن ہے اللہ اُن کے دل کھول دے اور تمہاری گھریلو لڑائیاں اور جھگڑے دور ہو جائیں۔اب تک ایسے احمدی گھرانے موجود ہیں جہاں دو بھائیوں میں سے ایک بھائی ہیں سال سے احمدی ہے دوسرا بھائی ابھی غیر احمدی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اُس نے اپنے غیر احمدی بھائی کو مرکز