خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 388

$1954 388 خطبات محمود ہوں تا کہ ایک وقت میں لاکھ ڈیڑھ لاکھ آدمی ہماری کتب پڑھ رہا ہو۔اگر ہم اس قسم کا انتظام کر لیں تو لازمی بات ہے کہ سمجھدار، سنجیدہ، شریف اور خدا تعالیٰ سے محبت رکھنے والے لوگ آنے شروع ہو جائیں گے۔اور یہ کام بغیر اس کے نہیں ہو سکتا کہ ہمارا قربانی کا قدم ہمیشہ آگے رہے۔اگر ہم ایک جگہ پر ٹک جاتے ہیں تو ہماری وہی مثال ہو گی جیسے ایک نوجوان کو پانچ چھ سال کے بچے کا لباس پہنا دیا جائے تو وہ لباس یا تو پھٹ جائے گا اور اگر وہ پہننے میں کامیاب بھی ہو جائے تو ناف سے اوپر ہی رہے گا۔اور یہ بے جوڑ لباس نہ تمہیں اپنوں میں عزت دے سکتا ہے اور نہ غیروں میں عزت دے سکتا ہے۔اگر تم اپنوں اور بیگانوں میں عزت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ ہے کہ تم حوصلہ اور ہمت سے کام کرو۔اگر تم خدا تعالیٰ کے رستہ میں خرچ کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہیں اور دے گا۔پس میں دونوں دفتروں والوں سے کہتا ہوں کہ تم سب ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔دفتر دوم کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ اس کی حالت نہایت افسوسناک ہے۔ان کا قدم پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔نوجوانوں کو تو بوڑھوں سے زیادہ تیز ہونا چاہیے تھا اور ان کا قدم دلیری کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے تھا۔اگر کوئی شخص مالی لحاظ سے یا ایمان کے لحاظ سے کمزور بھی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بناوٹ سے ہی ساتھ چلتا چلا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کے لیے مکہ تشریف لے گئے اور حدیبیہ کے مقام پر آپ کو روک لیا گیا تو اُس وقت آپ کے اور مشرکین مکہ کے درمیان یہ معاہدہ طے پا کہ مسلمان اگلے سال عمرہ کے لیے آجائیں۔اس موقع پر مشرکین مکہ، قریب کی پہاڑیوں پر چلے جائیں گے۔چنانچہ اگلے سال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سمیت عمرہ کے لیے آئے۔وہ موسم ملیریا کا تھا۔مدینہ سے مکہ آتے ہوئے رستہ میں ملیریا کا علاقہ تھا۔اسلامی لشکر اس علاقہ سے گزرا تو اس کی اکثریت ملیریا کی وجہ سے بیمار ہو گئی۔ملیریا نے مسلمانوں کی ہڈیوں کو کھوکھلا کر دیا۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ملیریا کی وجہ سے ہماری کمریں گبڑی ہو گئی تھیں۔ہم اپنی کمریں سیدھی نہیں کر سکتے تھے۔جب ہم طواف کرنے لگے تو مشرکین مکہ جبل ابوالقبیس پر چلے گئے تھے اور وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کی حالت کو دیکھ رہے تھے۔یہ لوگ