خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 372

$1954 372 خطبات محمود دیں۔سپاہی خندق پر بیٹھا ہو، رائفل بھی پاس ہو لیکن گولہ بارود نہ ہو تو وہ کیا کرے گا؟ و زیادہ سے زیادہ رائفل سے ڈنڈے کا کام لے سکتا ہے۔تجربہ کیا گیا ہے کہ جب بڑے پیمانہ پر جنگ ہو اور دوسو راؤند فی سپاہی کا اندازہ ہو چل سکتا ہے ورنہ نہیں۔مثلاً دولاکھ سپاہی ہوں تو دوکروڑ راؤند ہو تو موجودہ زمانہ کی کامیاب لڑائی لڑی جا سکتی ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ دودوسو راؤند ہر سپاہی چلائے۔برین گن 5 والے تو ایک ایک منٹ میں اتنے راؤند چلا لیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ فوج میں لڑنے والا حصہ فوج کا پینتیسویں فیصدی ہوتا ہے۔فوج میں نائی بھی ہوتے ہیں، دھوبی بھی ہوتے ہیں، ڈاکٹر بھی ہوتے ہیں، باور چی بھی ہوتے ہیں، موٹر چلانے والے بھی ہوتے ہیں۔مغربی اقوام میں یہ لوگ ساری فوج کا چھیاسٹھ فیصدی ہوتے ہیں لیکن روس میں یہ لوگ چھیاسٹھ فیصدی حصہ نہیں ہوتے بلکہ چون فیصدی ہوتے ہیں۔چھیالیس فیصدی لڑنے والے ہوتے ہیں۔لیکن مغربی اقوام کہتی ہیں یہ غلط طریق ہے لڑنے والے کو جب تک مکمل آرام نہ دیا جائے وہ لڑ نہیں سکتا۔اس لیے چھیاسٹھ فیصدی حصہ فوج کا لڑنے والوں کی خدمت میں وقف ہونا چاہیے۔پھر باقی چونتیس فیصدی بھی ایک ہی وقت میں لڑائی میں شامل نہیں ہوتا۔آخر کچھ وقت آرام بھی کرنا ہوتا ہے۔اس لیے سترہ ہزار بیٹھیں گے اور سترہ ہزار لڑیں گے۔پھر سترہ ہزار بھی سارا وقت نہیں لڑ سکتا۔بعض لڑ رہے ہوں گے اور بعض لائن آف کمیونیکیشن کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔گویا ایک وقت میں ایک لاکھ فوج میں سے چودہ ہزار سے زیادہ سپاہی لڑائی نہیں کرتے۔گویا اگر دو کروڑ گولیاں ہوں تو چودہ ہزار لڑنے والوں میں سے ہر ایک کو قریباً قریباً گیارہ سو گولی حصہ آئے گی۔پھر رائفل والے کم گولی چلائیں گے اور برین والے زیادہ چلائیں گے۔برین کا استعمال اب بڑھ گیا ہے۔امریکہ میں ہر چوتھا آدمی برین سے مسلح ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں برین والوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔غرض سامان کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنے سپاہیوں کو سامان مہیا نہیں کرتے کیونکہ اس کا زیادہ تر انحصار چندہ پر ہے۔اور جماعت اس قدر روپیہ مہیا نہیں کر سکتی اس لیے ابھی ہمیں یہی ضرورت تھی کہ ہم ہر جگہ اسلام کی آواز