خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 319

$1954 319 خطبات محمود تو خوردبین لگا کر بھی کوئی غیر مسلم نظر نہ آتا لیکن مسلمانوں نے تبلیغ کے عظیم الشان حکم کو بھی چھوڑا اور کثرت ازدواج کے متعلق جو حکم دیا گیا تھا اُس پر بھی عمل پیرا نہ ہوئے۔وہ شخص کہنے لگا ہم لوگ تو غریب ہیں۔اگر ہم کثرت ازدواج کے حکم پر عمل کریں گے اور زیادہ اولاد پیدا کریں گے تو ہم بھوکے مر جائیں گے۔ہم تو پہلے ہی بھوکوں مر رہے ہیں۔ہماری اولاد کہاں سے کھائے گی۔میں نے کہا یہاں قانونِ قدرت تمہاری مدد کرے گا۔دنیا میں جتنی بغاوتیں ہوئیں ہیں وہ مالداروں نے نہیں کیں، غرباء نے کی ہیں۔مالداروں نے یوں کوئی جتھا بنا لیا ہو تو اور بات ہے عام بغاوت کبھی اُن کے ذریعہ سے نہیں ہوئی (جیسے ہمارے ملک میں اسلامی جماعت ہے۔محض بعض مفادات کے حصول کی خاطر اس نے ایک جتھا بنا لیا ہے۔یہ ایک استثنائی اور بناوٹی صورت ہے)۔پس امراء کی وجہ سے کسی ملک میں بغاوت کی عام آگ نہیں لگی۔جب بھی کسی ملک میں بغاوت کی آگ لگی ہے ، بھوکوں سے لگی ہے۔فرانس کی تاریخ پڑھ لو جب وہاں بغاوت ہوئی ہے، غرباء اور بھوکوں کی وجہ سے ہی ہوئی ہے۔عوام بادشاہ کے خلاف اُٹھے۔وہ فاقہ زدہ تھے۔ان کی مالی حالت بالکل گر چکی تھی۔انہوں نے جوش میں آ کر قصر شاہی کے سامنے مظاہرہ کیا۔امراء اپنی حالت میں مست تھے۔انہیں غرباء کی زبوں حالی کا احساس تک نہیں تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح ہم بے فکر ہیں اُسی طرح دوسرے لوگ بھی ہوں گے حالانکہ غرباء فاقے کر رہے تھے۔چنانچہ وہ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے اور قصر شاہی کے دروازہ کے سامنے جا کر انہوں نے فرانسیسی زبان میں روٹی روٹی کا نعرہ لگایا۔ملکہ محل سے باہر گئی ہوئی تھی۔جب وہ واپس لوٹی اور اس نے ہجوم کو دیکھا تو اس نے دریافت کیا کہ یہ کیسا ہجوم ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فاقہ زدہ لوگ ہیں اور روٹی روٹی پکار رہے ہیں۔تاریخ میں یہ واقعہ آتا ہے اور لوگ اسے پڑھ کر ہنستے ہیں کہ وہ ملکہ کس قدر احمق تھی۔اس نے کہا اگر ان لوگوں کو روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں۔اُس احمق کو یہ پتا نہیں تھا کہ جس شخص کو روٹی نہیں ملتی اُسے کیک تو کسی صورت میں نہیں مل سکتے۔غرض فرانس میں جو بغاوت ہوئی وہ غرباء نے ہی کی تھی۔روس میں جو بغاوت ہوئی اور جس کے نتیجہ میں بالشوازم قائم ہوئی وہ بھی غرباء ہی کے ذریعہ سے ہوئی۔پھر جرمنی میں بغاوت ہوئی یہ بھی غرباء نے ہی کی تھی۔اگر عوام