خطبات محمود (جلد 35) — Page 283
$1954 283 خطبات محمود کہ عیسی خود بیمار ہو گیا ہے اور وہ کسی کو زندہ نہیں کر سکتا۔جب پروفیسروں کی یہ حالت ہو کہ اگر اُن کے سپر د اتنا چھوٹا سا کام بھی کیا جائے جو اگر کسی چُوڑھے کے سپر د بھی کیا جاتا تو وہ اُسے کر لیتا۔لیکن وہ چار سال تک نہ کریں تو طلباء کا کیا حال ہو گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر اساتذہ اور طالبعلم اپنی اصلاح نہیں کریں گے اور خدمتِ دین سے غفلت کریں گے تو خدا تعالیٰ کا کام بہر حال ہوتا چلا جائے گا۔لیکن یہ ضرور ہے کہ تم سے برکت چھین لی جائے گی۔، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ میں تشریف لے گئے اور اس میں خدا تعالیٰ نے آپ کو فتح دی۔اُس وقت مکہ نیا نیا فتح ہوا تھا اور آپ کے ساتھ مکہ کے حدیث العہد لوگ بھی تھے۔آپ نے انہیں حدیث العہد سمجھ کر مال غنیمت میں سے بہت سا حصہ دے دیا اور مدینہ کے مسلمانوں کو نہ دیا۔اس پر ایک انصاری نوجوان نے کہا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال اپنے رشتہ داروں کو دے دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ خبر پہنچی۔آپ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ بات درست ہے لیکن ہم میں سے ایک بد بخت نوجوان نے یہ بات کہی ہے۔ہم اس سے گلی طور پر بیزار ہیں۔آپ نے فرمایا اے انصار! کہنے والے کے منہ سے بات نکل گئی اور دنیا کے سامنے آچکی۔میں تمہارے سامنے اس کی اصل حیثیت رکھ دیتا ہوں کہ آج جو کچھ ہوا ہے اُس کی دو شکلیں ہوسکتی ہیں۔تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے۔اُن کے اپنے رشتہ دار ان کے دشمن ہو گئے اور انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو بُرا بھلا کہا، آپ پر مظالم کیسے اور آخر اتنی سختیاں کیں کہ آپ کو مکہ سے نکلنا پڑا اور مدینہ تشریف لے آئے۔وہاں ہم نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو پناہ دی، انہیں اپنی جائیدادیں پیش کر دیں، اپنے مکان خالی کر دیئے۔غرض آپ کے لیے ہر ممکن قربانی کی اور اپنی جانوں کو آپ کی حفاظت کے لیے پیش کر دیا۔لیکن جب مکہ فتح ہو گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں محروم کر دیا اور اموال اپنے رشتہ داروں کو دے دیئے۔انصار کے اندر ایمان تھا وہ اس قسم کی بے ایمانی والی بات نہیں کہہ سکتے تھے۔انہوں نے روتے ہوئے