خطبات محمود (جلد 35) — Page 221
$1954 221 خطبات محمود کیونکہ جب امام غلطی کرتا ہے تو اُس کے ماننے والے بھی وہی غلطی کرنے لگ جاتے ہیں۔و کہتے ہیں کہ لڑکا تو یہ بات کہہ کر چلا گیا مگر میں دیر تک کھڑا اُس کے اس وعظ سے لطف اُٹھاتا رہا۔اور حقیقت یہی ہے کہ ساری عمر میں میں نے اتنی کارگر اور مؤثر نصیحت کسی سے نہیں سنی۔تو سیکھنے والا ایک بچے سے بھی سبق سیکھ لیتا ہے بلکہ فضا کی ہر آواز سے اپنا مطلب اخذ کر سکتا لطیفہ مشہور ہے کہ امیر خسرو کے پاس ایک دفعہ ایک مہمان آیا۔انہوں نے اسے کھانا تو کھلا دیا مگر وہ کھانا کھا کر وہیں بیٹھ گیا۔حالانکہ قرآن کا صاف حکم ہے کہ جب تم کھانا کھا لو چلے جاؤ۔وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے نہ لگ جاؤ 2 بہر حال اسے بیٹھے بیٹھے بہت دیر ہو گئی۔اتنے میں ایک دُھنیا روئی دھننے لگ گیا۔اس کی آواز سن کر وہ مہمان کہنے لگا کہ امیر خسرو ! یہ آواز کیا کہہ رہی ہے؟ انہوں نے کہا مجھے تو اس سے یہ آواز آ رہی ہے کہ نان چوخوردی خانہ برو۔خانہ برو۔خانہ برو۔نہ کہ کردم بتو خانہ گرو۔خانہ گرو۔خانہ گرو۔یعنی جب تم روٹی کھا چکے ہو تو اب اپنے گھر جاؤ۔میں نے اپنا مکان تو تمہارے پاس رہن نہیں رکھ دیا۔حقیقت یہ ہے کہ جب تم کوئی آواز سنو تو جو چاہو اس سے بنا لو۔دل میں نیکی ہو تو کی انسان اچھی بات بنا لیتا ہے۔خرابی ہو تو بُری بات بنا لیتا ہے۔ایک دفعہ ہمارے گھر میں پنکھا رہا تھا کہ میں نے کچھ الفاظ بنا کر کہا کہ پنکھا یہ آواز دے رہا ہے۔میری بیوی کہنے لگیں آپ ٹھیک کہتے ہیں۔اس میں سے یہی آواز آ رہی ہے۔پھر میں نے کچھ اور الفاظ بنا کر کہا اب اس میں سے یہ آواز آ رہی ہے۔انہوں نے غور سے سنا تو کہنے لگیں ٹھیک ہے۔اب یہی آواز آ رہی ہے۔تو کھٹکے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اُسے جس سر پر چاہو لے آؤ اور اُس۔ایک نتیجہ اخذ کر لو۔جس شخص کے دل میں بُرائی ہوتی ہے وہ بُرا اثر لے لیتا ہے اور جس شخص کے دل میں نیکی ہوتی ہے وہ نیک اثر لے لیتا ہے۔بہر حال اگر انسان سیکھنے کی نیت رکھے اور سوچنے کی عادت ڈالے تو زمین کی اینٹیں اور پہاڑوں کے درخت اور جنگلوں کی جھاڑیاں یہ بھی انسان کے لیے قرآن اور حدیث کی تفسیر بن جاتی ہیں اور اگر وہ سمجھنے کا ارادہ نہ کرے تو ایسے بدبخت انسان کو نہ قرآن فائدہ دیتا ہے، نہ حدیث فائدہ دیتی ہے،