خطبات محمود (جلد 35) — Page 141
$1954 141 خطبات محمود دور وہ دیانتدار نہ بنو؟ دوسروں سے زیادہ حُبُّ الوطنی نہ دکھاؤ ؟ دوسروں سے زیادہ بنی نوع انسان کے خدمت گزار نہ بنو؟ دوسروں سے زیادہ راستباز نہ بنو؟ اور یہ بھی ایک تبلیغ ہے جس کی قانون کی اجازت ہی نہیں دیتا بلکہ وہ ہر پاکستانی سے اس کا مطالبہ کرتا ہے۔اور جو لوگ ملازم پیشہ نہیں اُن کے لیے اس میں کیا مشکل ہے کہ وہ اپنے اپنے رشتہ داروں اور گہرے دوستوں کو سمجھائیں اور جو اعتراض علماء نے ہم پر کیسے ہیں اُن کا جواب دیں۔کیا رشتہ داروں کی غلط فہمیاں دور کرنے سے کوئی روک سکتا ہے؟ اگر غلط فہمیاں د کرنے سے کوئی روکتا ہے تو اُسے پہلے غلط فہمی پیدا کرنے والے کو روکنا چاہیے۔اب تو وہ زمانہ آ گیا ہے کہ خود غیر احمدیوں نے ہمارے خلاف اس قدر مواد جمع کر دیا ہے کہ ہم اگر رات دن اُن کے اعتراضات کو دور کرتے رہیں تو یہی ایک بڑا کام ہے۔اگر تم اُن کے اعتراضات کے جوابات دو اور انہیں بتاؤ کہ احمدیت کیا کہتی ہے تو یقیناً ایک دن ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔اور جب انہیں نظر آئے گا کہ تم سچے ہو اور تمہارے دشمن تم پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں تو لازماً تمہارے دوستوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور تمہارے دشمنوں کی تعداد گھٹتی جائے گی۔اور اگر لوگ سمجھ لیں گے کہ تم مسلمانوں کے خیر خواہ ہو اور ہمیشہ ان کی ترقی کی کوشش کرتے ہو تو وہ آپ ہی آپ فیصلہ کرلیں گے کہ تمہارے مخالف غلطی پر ہیں۔ہر پس اپنے رویہ کو بدلو اور جماعت کے کمزور حصہ کی اصلاح کرنے کی کوشش کرو اور احمدی کے کیریکٹر کا جائزہ لے کر اس کے مرض کو دور کرنے کی طرف توجہ کرو۔اگر ایک شخص کو مرض ہے نماز نہ پڑھنے کا اور تم اُس کو چندے کا وعظ کرتے ہو یا ایک شخص کو چندہ نہ دینے کا مرض ہے اور تم اُس کو نماز کا وعظ کرتے ہو تو یہ ایسا ہی ہو گا جیسے کھانسی والے کو سر درد کی دوا دے دی جائے اور سر درد والے کو کھانسی کی دوا دے دی جائے یا ہیضہ والے کو نقرس کی دوا دے دی جائے۔جس طرح یہ بیوقوفی ہے اسی طرح وہ بھی بیوقوفی ہے۔پس علاج ہمیشہ مرض کے مطابق کرو اور جماعت کے کمزور حصہ کو مضبوط بنانے اور اُس کی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش الفضل 6 جنوری 1955ء) 1 : امید و بیم : کامیابی اور ناکامی کی درمیانی حالت۔دبدھا، اطمینان و خوف ( اردو لغت تاریخی اصول پر جلد اول صفحہ 863۔کراچی 1977ء) کرو۔