خطبات محمود (جلد 35) — Page 134
$1954 134 خطبات محمود لیکن ان کی عملی حالت یہ ہے کہ وہ چندہ ہی نہیں دیتے۔گویا ان کا ساتھ ساتھ پھرنا بالکل ایساتی ہی ہوتا ہے جیسے کسی مُردہ لاش کو کل 3 لگا کر تھوڑی دیر کے لیے چلا کر دکھا دیا جائے۔ہم انہیں چلتے پھرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں حالانکہ وہ مُردہ لاشیں ہیں۔اور پھر ہماری جماعت کی بدنامی میں بھی بڑا حصہ انہی کا ہے۔احرار ہمیشہ یہی شور مچاتے رہے اور تحقیقاتی عدالت کے سامنے بھی انہوں نے یہی کہا کہ احمدی فوج پر قابض ہیں۔اور جو فوج میں احمدی ہیں اُن کی حالت یہ ہے کہ وہ جماعتی طور پر ہمارے لیے کوئی فائدہ بخش نہیں۔ہمارے خلاف جتنی شورش ہوئی ہے اس میں بڑا حصہ دشمن کے اس پروپیگنڈا کا ہے کہ فوج میں اور نیوی میں یہ لوگ دوسروں سے بہت آگے ہیں اور ان می کی نیت خراب ہے۔مگر نیوی والوں کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے بہت کا احمدیت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔صرف نام کے لحاظ سے وہ احمدی کہلاتے ہیں ورنہ عملی طور پر وہ کوئی احمدی نہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ نیوی میں سو کے قریب احمدی ہیں جن میں سے صرف دو با قاعدہ چندہ دیتے ہیں۔جب حالت یہ ہے تو نیوی میں ہمارا سو آدمی کہاں ہوا ؟ ہمارے تو صرف دو آدمی ہوئے۔باقی صرف نام کے طور پر احمدی کہلاتے ہیں۔اگر وہ احمدیت کو چھوڑ دیتے تو یقیناً ہمیں کوئی نقصان نہ ہوتا کیونکہ چندہ تو وہ اب بھی نہیں دیتے۔پھر ہمیں نقصان کیا ہوتا؟ البتہ ہمیں یہ فائدہ ضرور ہو جاتا کہ وہ لوگ جو ہمارے خلاف تقریریں کیا کرتے ہیں کہ فوجی میں اور پولیس میں اور نیوی میں ہر جگہ احمدیوں نے قبضہ کیا ہوا ہے اُن کا منہ بند ہو جاتا۔اور بجائے اِس کے کہ وہ یہ کہتے کہ پچاسی فیصدی فوج پر احمدی قابض ہیں وہ یہ کہنے پر مجبور ہوتے کہ ایک لاکھ میں سے صرف دس یا ہمیں احمدی فوج میں ہیں تو ان کے احمدیت کے چھوڑ دینے سے یقیناً احمدیت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچ جاتا اور دشمن یہ اعتراض نہ کر سکتا۔پس اگر وہ چندہ نہیں دیتے تو انہیں کم از کم یہ طریق اختیار کرنا چاہیے کہ وہ جماعت کو بدنام نہ کریں اور احمدیت کو ترک کرنے کا اعلان کر دیں۔یہ بھی اُن کی اللہ تعالیٰ کے حضور ایک رنگ کی خدمت ہوگی کہ انہوں نے چندہ نہیں دیا تو کم از کم جماعت کی عزت بچانے لیے انہوں نے اپنی روحانی موت کا آپ اعلان کر دیا۔لیکن میں سمجھتا ہوں اس کی