خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 129

$1954 129 خطبات محمود خوب مطالعہ ہوتا ہے لیکن جب عربی بولنے کا سوال آئے تو عرب کا ایک معمولی کمہار یا دھوبی کی بھی صحیح عربی بولے گا اور وہ دو فقرے بھی نہیں بول سکیں گے۔یہ نقص صرف اس وجہ سے ہے کہ انہیں عربی بولنے کی مشق نہیں۔پس ایسے ملک کے لوگوں سے یہ امید کرنا کہ وہ عربی میں قرآن کو سمجھ سکیں گے بہت بعید بات ہے۔بیشک ہماری کوشش تو یہی ہونی چاہیے مگر اس ا کے برآنے کے لیے ایک لمبا زمانہ چاہیے۔اور جب اس کے لیے ایک لمبے زمانہ کی ضرورت ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ان کی روح اتنے عرصہ کے لیے امید وبیم 1 میں رکھی جا سکتی ہے؟ فرض کرو تمہارے پاس کھانا نہیں لیکن تم نے اپنے کھیت میں گیہوں بویا ہوا ہے اور چھوٹی چھوٹی روئیدگی بھی اُس کی نکلی ہوئی ہے تو آیا تمہاری بھوک کے وقت تمہارے لیے یہ تصور کافی ہو گا کہ جب یہ روئیدگی بڑھے گی، دانے پلکیں گے تو پھر ہم گندم کاٹ کر اپنے گھر میں لائیں گے اور آٹا پسوا کر روٹی پکائیں گے؟ اگر تم اس وقت کا انتظار کرو گے تو تم مرو گے۔تمہیں بہر حال اپنی غذا کا کوئی نہ کوئی قائم مقام سوچنا پڑے گا۔جیسے جو لوگ چاول کھانے کے عادی ہوں انہیں اگر چاول نہ ملیں تو چاہے انہیں نفرت ہو، بد ہضمی ہو، وہ گندم کھائیں گے۔یا گندم کھانے والے کو اگر کسی وقت گندم میسر نہیں آتی تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ فاقہ کرنے لگ جائے بلکہ وہ چاول پکا کر کھا لیتا ہے۔چاول نہیں ملتے تو ملکی کھا لیتا ہے۔مکی نہ ملے تو باجرہ کھا لیتا ہے۔اگر باجرہ ان نہیں ملتا تو بعض دفعہ وہ مڈھل 2 کھا لیتا ہے (یہ ایک جنگلی دانہ ہے جسے پنجابی میں مڈھل کہتے ہیں۔اردو نام مجھے معلوم نہیں جس کو عام حالات میں انسان نہیں کھایا کرتا)۔بہر حال ایسے حالات میں انسان کو اپنی غذا کا قائم مقام سوچنا پڑتا ہے۔میں مانتا ہوں کہ ہماری جماعت میں سارے کے سارے عربی نہیں پڑھ سکتے۔بلکہ گر پڑھ بھی لیں تو ہماری جماعت میں ہر سال اتنے نئے آدمی داخل ہوتے رہتے ہیں کہ ہم یسے تعلیمی معیار کو قائم رکھ ہی نہیں سکتے۔قادیان میں عورتوں اور لڑکیوں کی تعلیم ہم نے کئی دفعہ سو فیصدی تک پہنچا دی تھی مگر دو چار سال کے بعد جب ہم پھر مردم شماری کرتے تو اتنی توے فیصدی پر اُن کی تعلیم آ جاتی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ وہاں ہجرت جاری تھی اور نئی نئی عورتیں باہر سے قادیان میں آتی رہتی تھیں۔اس لیے پہلا معیار گر جاتا تھا۔یہی حال جماعت کا ہے۔