خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 124

$1954 124 خطبات محمود گی، اس کی تائید اور نصرت مجھے ملے گی تو اُسے اس بات کے کہنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔بلکہ خدا تعالیٰ کے متعلق کوئی بات کہنے سے حکومت بھی ہمیں روکے تو اُس کی اطاعت فرض نہیں۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ کہا ہے کہ اگر وہ میرے خلاف کوئی بات کہیں تو اُن کی بات مت مانو۔9 انسان کے ساتھ جو والدین کا تعلق ہے وہی تعلق حکومت کا ہے۔اگر حکومت کہتی ہے کہ تم فلاں جگہ کھڑے ہو جاؤ تو ہم اُس کے حکم کی اطاعت کریں گے اور اُس جگہ کھڑے ہو جائیں گے۔اگر وہ کہتی ہے فلاں کام کر دو تو ہم کریں گے۔لیکن اگر وہ کہے کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق فلاں بات مت کہو تو ہم اُس کی اطاعت نہیں کریں گے۔یہاں حکومت کے قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد وہ بیشک ڈنڈا چلائے لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے تم اُس کی اطاعت نہ کرو۔تم وہی کہو جو میں کہتا ہوں۔مثلاً اگر تم کہتے ہو کہ خدا تعالیٰ قادر ہے تو بیشک حکومت یہ قانون بنا دے کہ تم خدا تعالیٰ کو قادر نہ کہو کیونکہ ایسا کہنے سے اُن لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کو قادر تسلیم نہیں کرتے۔پھر بھی خدا تعالیٰ کا حکم یہی ہو گا کہ تم اسے قادر کہتے رہو۔گزشتہ سال میں نے ایک اعلان میں کہا تھا کہ خدا تعالیٰ ہماری مدد اور نصرت کو آ رہا ہے، وہ چلا آ رہا ہے، وہ دوڑتا آ رہا ہے اس پر حکومت نے مجھے نوٹس دیا کہ تم نے ایسا کیوں کہا؟ اس سے دوسرے لوگوں کو اشتعال آیا ہے۔ہاں ! نوٹس دینے والے افسر نے اتنی اصلاح کر لی کہ اس نے کہا تم احرار کے متعلق کوئی ذکر نہ کرو۔اگر وہ مجھے یہ حکم دیتے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ مدد کو آ رہا ہے یا یہ کہو کہ وہ مدد کو نہیں آتا تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس بات کو تسلیم کر لینے پر آمادہ نہ کر سکتی۔اس لیے کہ وہ اس طرح کا حکم دے کر قرآن کریم پر حکومت کرنا چاہتے اور یہ ایسا حکم تھا جس کا ماننا جائز نہ ہوتا۔اگر کوئی حکومت یہ کہے کہ تم خدا تعالیٰ کو ایک نہ سمجھو تو ہم کہیں گے عقائد کے بارہ میں تمہاری حکومت نہیں چلتی۔تمہاری حکومت ایسے امور میں چلے گی جو دنیوی ہوں۔مثلاً کسی کا یہ عقیدہ ہو کہ تم لوگوں کو خوب مارو تو حکومت اس پر ایکشن لے سکتی ہے۔لیکن اس لحاظ سے نہیں کہ وہ ایسا عقیدہ کیوں رکھتا۔بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اس عقیدہ کو عملی جامہ کیوں پہنا رہا ہے۔حکومت اعمال پر کنٹرول