خطبات محمود (جلد 35) — Page 121
$1954 121 خطبات محمود۔نہیں ہوتا۔اگر بغیر سمجھے اور بغیر سوچے انسان اتنا شور مچا دیتا ہے تو جس قوم کے سامنے زندہ خدا کو پیش کیا گیا ہو اور اس نے خدا تعالیٰ کی قدرت، نصرت اور اس کی تائید کے کرشمے دیکھے کی ہوں یا اگر انہوں نے خود نہیں دیکھے تو خدا تعالیٰ کی قدرت اور نصرت و تائید کے مظاہر دیکھنے والے اور اُن کا تجربہ رکھنے والے لوگ اُن میں موجود ہیں تو اُس قوم کا کوئی فرد اگر مار کھاتا ہے اور پھر چیختا نہیں، تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے اور کراہتا نہیں تو وہ یقینا بیوقوف ہے۔جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے قریب کوئی اور شخص موجود ہے، جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے پاس کوئی قصبہ یا گاؤں موجود ہے پھر بھی وہ آواز بلند کرتا ہے کہ شاید ایسا ہو، جس شخص کو خدا تعالی کی ہستی پر یقین نہیں لیکن پھر بھی وہ مصیبت کے وقت شور مچاتا ہے کہ شاید خدا ہو اور وہ میری بات سن لے یا اگر اسے خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین تو ہے لیکن اُس نے خود اس کی لکی قدرتوں کا تجربہ نہیں کیا تو وہ سمجھتا ہے کہ شاید خدا اس کی بات سن لے۔ان چار شایدوں کے ساتھ وہ شور مچاتا ہے اور پھر اس کے درمیان کوئی وقفہ نہیں ہوتا۔وہ سوچتا نہیں، وہ غور نہیں کرتا۔لیکن ایک اور انسان ہے جس کے سارے شاید غائب ہیں۔اس کے سامنے یہ سوال نہیں کہ شاید اُس کے پاس کوئی شخص اور بھی ہو جو اُس کی آواز سن لے۔اس کے سامنے یہ سوال نہیں کہ شاید قریب ہی کوئی گاؤں یا قصبہ ہو جس کا اُسے علم نہ ہو، شاید اس کے رہنے والے اس کی آواز سن لیں۔اس کے سامنے یہ سوال نہیں کہ خدا ہے یا نہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر یقین رکھتا ہے۔پھر اس کے سامنے یہ سوال بھی نہیں کہ خدا تعالیٰ موجود تو ہے لیکن اس کی قدرتوں کا مجھے علم نہیں۔وہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ موجود ہے اور وہ اپنی قدرتیں ہمیشہ دکھاتا رہا ہے اور اس کی نصرت و تائید کے مظاہر اس نے خود بھی دیکھے ہیں۔پھر بھی اگر مصیبت کے وقت وہ شور نہیں مچاتا تو اس کی حالت کس قدر افسوسناک ہے۔ایک شخص جو خدا تعالی کو دیکھتا نہیں وہ تو شور مچاتا ہے لیکن دوسرا شخص خدا تعالیٰ کو دیکھتا بھی ہے اور پھر بھی شور نہیں مچاتا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں کئی چیزوں کو انسان کے سامنے پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا فلاں چیز اور یہ چیز برابر ہے۔مثلاً وہ کہتا ہے کہ کیا بہرے اور گونگے اور سننے اور بولنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا زندہ اور مُردہ برابر ہو سکتے ہیں ؟3 کیا ہدایت یافتہ لوگ اور وہ لوگ