خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 106

$1954 106 خطبات محمود دیکھو! خدا تعالیٰ نے زبان بنائی ہے۔ایک طرف تو انسان کو اتنی آزادی حاصل ہے کہ وہ اس کی زبان سے خدا تعالیٰ کو بھی گالیاں دے لے تو اس کے لیے کوئی روک نہیں اور لوگ گالیاں دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک چشم دید واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو بعد میں احمدی ہو گیا تھا اس کا بچہ فوت ہو گیا۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد صاحب یا آپ کے بڑے بھائی کے گلے لگ کر چیخ مار کر کہنے لگا خدا تعالیٰ نے مجھے پر کتنا ظلم کیا ہے کہ اس نے میرا بچہ مار دیا۔اس طرح اپنی زبان سے اُس نے شکوہ بھی کر لیا، اُس نے خدا تعالیٰ کو ظالم بھی کہہ لیا اور خدا تعالیٰ کے متعلق اس کے دل میں انقباض بھی پیدا ہو گیا۔مگر دوسری طرف اگر اس زبان کے سامنے دنیا کے تمام بادشاہ، وزراء، علماء اور فقہاء ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ میٹھے کو کھتا چکھ یا کھٹے کو کڑوا چکھ تو وہ ایسا کبھی نہیں کرے گی۔وہ میٹھے کو میٹھا ہی چکھے گی اور کھٹے کو کھتا ہی چکھے گی۔گویا ایک طرف اللہ تعالیٰ نے زبان کے متعلق انسان کو اتنی آزادی دی ہے کہ اگر وہ چاہے تو خدا تعالیٰ کو بھی گالیاں دے لے اور دوسری طرف اس میں اتنی طاقت بھی نہیں رکھی کہ وہ میٹھے کو کڑوا چکھے یا کڑوے کو میٹھا چکھے۔حقیقت یہ ہے کہ تقدیر کا ایک حصہ خدا تعالیٰ نے انسان کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اسے کہا ہے کہ وہ خود کام چلائے ، اس میں اپنی عقل کو استعمال کرے۔اور دوسرا حصہ اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔جو حصہ اُس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے وہ بدل نہیں سکتا۔مثلاً میٹھا، میٹھا ہی رہے گا اور کڑوا، کڑوا ہی ہو گا۔ہاں! اس کے قانون کے ماتحت وہ بعض اوقات بدل بھی جائے گا مثلاً کسی کا جگر خراب ہے تو اسے میٹھی چیز کڑوی لگتی ہے یا بعض خرابیوں کی وجہ سے نمک تیز لگتا ہے، میٹھی چیز میں مٹھاس کم معلوم ہوتی ہے، کڑوی چیزیں پھیکی معلوم ہوتی ہیں یا پھیکی چیزیں کڑوی معلوم ہوتی ہیں۔غرض تقدیر کا وہ حصہ جو خدا تعالیٰ نے اپنے قبضہ میں رکھا ہے وہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔اس میں تبدیلی واقع ہو گی تو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت ہی ہو گی۔تم اگر چاہو بھی تو اسے بدل نہیں سکتے۔ہاں! جو حصہ تقدیر کا انسان کے سپرد ہے اس میں جو چاہے کرے خدا تعالیٰ نے اس میں کوئی روک پیدا نہیں کی۔مثلاً زبان انسان کے قبضہ میں ہے۔وہ اگر چاہے تو باپ کو گالیاں دے لے، حکومت کو بُرا